امامت و جماعت

صلوۃ التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
62386
| تاریخ :
2023-02-18
عبادات / نماز / امامت و جماعت

صلوۃ التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھنا جائز ہے ؟

روزانہ صلاۃ التسبیح باجماعت پڑھنا جائز ہے یا رمضان کے آخری عشرہ میں امام مسجد کے ساتھ ادا کرناہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ صلوٰۃ التسبیح ادا کرنے کےلیے کوئی خاص وقت متعین نہیں ہے، بلکہ مکروہ اوقات کے علاوہ دن اور رات میں جس وقت بھی چاہے پڑھی جاسکتی ہے، جبکہ صلوٰۃ التسبیح نفلی نماز ہےاور نفل کی جماعت عندالاحناف مکروہ تحریمی ہے، لہذا اسے جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے بجائے تنہا ادا کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي الدر المختار: قوله (واربع صلاة التسبيح الخ) يفعلها في كل وقت لا كراهة فيه أوفی کل یوم أو ليلة مرة ، والا ففى كل اسبوع او جمعة او شهر او العمر -
وفی رد المحتار: (ولا يصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك على سبيل التداعي، بأن يقتدي أربعة بواحد كما في الدرر، ولا خلاف في صحة الاقتداء إذ لا مانع نهر. (2/ 48)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 62386کی تصدیق کریں
0     765
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات