میرا شوہر مجھے میری بہن سے تعلق رکھنے سے منع کر رہا ہے کہ اس کا کردار اچھا نہیں ہے تو میری رخصتی کے بعد اس سے تعلق ختم کر کے آنا ہو گا ؟ کیونکہ اس کے خاندان کی عزت خراب ہونے کا خدشہ ہے ۔راہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کی بہن کا کردار کس اعتبار سے خراب ہے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم سائلہ کی بہن کا کر دار واقعۃً برا ہو اس طور پر کہ اس کے کسی شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات وغیرہ ہوں تو سائلہ کو چاہیے کہ اولا اسے حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرے، اور اسے وعظ و نصیحت بھی کرتی رہے ، اور ساتھ ساتھ اس کے لیے دعا کا بھی اہتمام کرے، ان شاء اللہ ،اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ اس کام سے باز آجائے گی، تاہم اگر اس کے باوجود وہ غلط حرکات سے باز نہ آئے ، اور اس کی اصلاح قطع تعلقی سے ہو سکتی ہو تو اس سے قطع تعلقی بھی کی جاسکتی ہے ، لیکن اس سے سائلہ کا مقصد محض قطع تعلقی نہ ہو، بلکہ اس کو راہ راست پر لانا ہو ۔
كما في تنزيل العزيز: {ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ } [النحل: 125]
و في عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (باب ما يجوز من الهجران لمن عصى) أي: هذا باب في بيان ما يجوز من الهجران لمن عصى، وقال المهلب: غرض البخاري من هذا الباب أن يبين صفة الهجران الجائز وأن ذلك متنوع على قدر الإجرام، فمن كان جرمه كثيرا فينبغي هجرانه واجتنابه وترك مكالمته، كما جاء في كعب بن مالك وصاحبيه، وما كان من المغاضبة بين الأهل والإخوان فالهجران الجائز فيها ترك التحية والتسمية وبسط الوجه، كما فعلت عائشة في مغاضبتها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. (22/ 144)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: عن أبي أيوب الأنصاري - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ولا يحل للرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا، وخيرهما الذي يبدأ بالسلام ". متفق عليه.» (إلی قوله) قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك. (8/ 3146) واللہ اعلم بالصواب