امامت و جماعت

نابینا شخص کی امامت کا حکم

فتوی نمبر :
65410
| تاریخ :
2018-07-10
عبادات / نماز / امامت و جماعت

نابینا شخص کی امامت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک قاری صاحب ہیں جو نابینا ہیں، کیا ان کی امامت درست ہے ؟ براہِ کرم مسئلہ کو واضح فرمادیں ۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور قاری صاحب موصوف مسائلِ نماز کو اچھی طرح جانتے ہوں اور صفائی ستھرائی کے معاملے میں بھی محتاط ہوں تو ان کی امامت بلاکراہت درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: ویكره تنزيها إمامة عبد (إلى قوله) (وفاسق وأعمى) ونحوه الأعشى نهر (إلا أن يكون) أي غير الفاسق (أعلم القوم) فهو أولى اھ(1/ 560)۔
وفي حاشية ابن عابدين: وحاصله أن قوله إلا أن يكون أعلم القوم خاص بالأعمى، أما غيره فلا تنتفي الكراهة بعلمه اھ (1/ 560)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65410کی تصدیق کریں
0     687
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات