کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک قاری صاحب ہیں جو نابینا ہیں، کیا ان کی امامت درست ہے ؟ براہِ کرم مسئلہ کو واضح فرمادیں ۔ شکریہ
سوال میں مذکور قاری صاحب موصوف مسائلِ نماز کو اچھی طرح جانتے ہوں اور صفائی ستھرائی کے معاملے میں بھی محتاط ہوں تو ان کی امامت بلاکراہت درست ہے۔
فی الدر المختار: ویكره تنزيها إمامة عبد (إلى قوله) (وفاسق وأعمى) ونحوه الأعشى نهر (إلا أن يكون) أي غير الفاسق (أعلم القوم) فهو أولى اھ(1/ 560)۔
وفي حاشية ابن عابدين: وحاصله أن قوله إلا أن يكون أعلم القوم خاص بالأعمى، أما غيره فلا تنتفي الكراهة بعلمه اھ (1/ 560)۔