کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ دورانِ سفر فرائض کے ساتھ سننِ مؤکدہ ادا کرنا بھی ضروری ہے یا انہیں چھوڑا جا سکتا ہے؟
۲۔ اگر کوئی شخص سفر میں جان بوجھ کر قصر نہ کرے، بلکہ پوری نماز پڑھے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اس کی نماز ہو جائےگی؟
دورانِ سفر کسی مقام پر قرار ہو تو اس صورت میں سنن کی ادائیگی بہرحال افضل ہے، جبکہ حالتِ فرار وخوف (جیسے گاڑی نکلنے کے اندیشہ کی حالت وغیرہ) میں صرف فرض نماز پر اکتفاء کرنا اور سنن کو چھوڑ دینا بہتر ہے۔
البتہ مسافتِ شرعیہ کے سفر کے دوران بجائے قصر کے قصداً ا تمام یعنی پوری چار رکعات فرض پڑھنے سے اگرچہ فرض ذمہ سے ساقط اور ادا ہو جاتا ہے، مگر عمداً ایسا کرنا مکروہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار: (ويأتي) المسافر (بالسنن) إن كان (في حال أمن وقرار وإلا) بأن كان في خوف وفرار (لا) يأتي بها هو المختار لأنه ترك لعذر اھ(2/ 131)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله هو المختار) وقيل الأفضل الترك ترخيصا، وقيل الفعل تقربا. وقال الهندواني: الفعل حال النزول والترك حال السير، وقيل يصلي سنة الفجر خاصة، وقيل سنة المغرب أيضا بحر قال في شرح المنية والأعدل ما قاله الهندواني. اهـ. قلت: والظاهر أن ما في المتن هو هذا وأن المراد بالأمن والقرار النزول وبالخوف والفرار السير اھ(2/ 131)۔
وفی الدر المختار: (فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدا لتأخير السلام وترك واجب القصر وواجب تكبيرة افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض، وهذا لا يحل اھ (2/ 128)۔
وفی حاشية ابن عابدين: وكذا صرح في البحر بتأثيمه، فعلم أن الإساءة هنا كراهة التحريم رحمتي اھ (2/ 128)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4