ہم چار سال پہلے ایبٹ آباد شفٹ ہوگئے ہیں بیٹے کی تعلیم کے لیے، کوہاٹ میں ہمارا اپنا گھر ہے ہم تین یا چار مہینے بعد پانچ، چھ دن کے لیے جاتے ہیں، تو وہاں قصر نماز پڑھیں یا نہیں؟ میرے شوہر مہینہ کے بیس دن وہاں ہوتے ہیں اور دس دن ہمارے ساتھ ایبٹ آباد میں۔
صورت مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر اپنے اہل وعیال کو محض تعلیمی مقاصد کی خاطر ایبٹ آباد لائے ہیں اور کوہاٹ کو کلی طور پر ترک کر کے ایبٹ آباد کو مستقل طور پر اپنا وطن بنانے کی نیت نہیں کی ہے،جیسا کہ سوال میں درج صورتحال سے بھی معلوم ہو رہا ہے تو اس صورت میں ایبٹ آباد اس کے لیے اور اس کے اہل وعیال کے لیے وطن اقامت ہے اور اقامت کی بناء پر پوری نماز پڑھنی ہوگی، جبکہ کوہاٹ وطن اصلی ہے اور وطن اصلی ہونے کی وجہ سے وہاں پر پورا خاندان مکمل نماز پڑھیں گے۔
ففی بدائع الصنائع: والوطن الأصلی ینتقص بمثلہ لا غیر وھو أن یتوطن الإنسان فی بلدۃ اخری وینقل الأھل إلیہا من بلدۃ فیخرج الاول من أن یکون وطنا أصلیاً لہ حتی لو دخل فیہ مسافراً لا تصیر صلوتہ أربعا اھ (۱/۴۹۸)
وفی الفتاوى الهندية: ويبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلي إذا انتقل عن الأول بأهله وأما إذا لم ينتقل بأهله ولكنه استحدث أهلا ببلدة أخرى فلا يبطل وطنه الأول ويتم فيهما ولا يبطل الوطن الأصلي بإنشاء السفر وبوطن الإقامة ووطن الإقامة يبطل بوطن الإقامة وبإنشاء السفر وبالوطن الأصلي.(1/ 142) واللہ أعلم بالصواب!
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4