میں ملتان کا رہائشی ہوں لاہور میں ٹرانسفر ہوئی ہے ہر پیر کو لاہور جاتا ہوں اور جمعہ کو ملتان واپس آجاتا ہوں پانچ دن سے زیادہ قیام نہیں کیا اور نہ ارادہ ہے لاہور میں کمرہ کرائے کا لے رکھا ہے ہفتے کے پانچ دن اس کمرے میں قیام کرتا ہوں یہی ترتیب تین سال تک جاری رہے گی پھر ملتان دوبارہ ٹرانسفر ہوگی میرا سوال یہ ہے کہ میں لاہور میں نماز قصر ادا کروں گا یا پوری ادا کروں گا. جزاک اللہ
سائل نے اگر لاہور ٹرانسفرہونے کے بعد جائے ملازمت میں ایک دفعہ بھی پندرہ دن یا اس سے زائدقیام نہ کیاہو،بلکہ محض پانچ دن قیام کرکے واپس ملتان آتاہو، تو دوران ملازمت امامت کراتے ہوئے یا انفرادی نماز اداکرتے وقت چاررکعت والی فرض نماز میں قصر (محض دورکعت پڑھنا) لازم ہوگا۔ البتہ اگر سائل مقیم امام کی اقتداء میں جماعت کے ساتھ نماز اداکرے، تو امام کی اقتداء میں پوری نماز پڑھنا لازم ہوگا۔ اسی طرح فرائض کے علاوہ پوری سنن کی ادائیگی بھی لازم ہوگی۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 147):
"كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر ......... وأما وطن الإقامة فهو الوطن الذي يقصد المسافر الإقامة فيه، وهو صالح لها نصف شهر". اھ (باب صلاۃ المسافر، ج:۴/ ۱۱۲،ط:سعید )
البناية شرح الهداية (3 / 24):
"وإن اقتدى المسافر بالمقيم في الوقت أتم أربعاً؛ لأنه يتغير فرضه إلى أربع للتبعية.
وفي الشرح: (أتم أربعاً): أي أربع ركعات، وسواء في ذلك اقتدى به في جزء من صلاته أو كلها، وبه قال الشافعي وأحمد وداود". اھ
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4