میرے بیوی بچے عارضی طور میرے ساتھ بیرون ملک میں ہیں کیا میں لازم قربانی جہاں موجود ہوں ، وہاں کروں یا پاکستان میں بھی قربانی ہوسکتی ہے؟
واضح ہو کہ قربانی کرنے والا جہاں موجود ہے وہاں قربانی کرنا شرعاًلازم نہیں بلکہ اپنے وکیل کے ذریعہ کسی بھی جگہ قربانی کرائی جاسکتی ہے، تاہم اس کے لۓ ضروری ہے،کہ قربانی ایسے وقت میں کی جائےکہ جس کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے اور جو وکیل بن کر قربانی کررہاہو ، دونوں جگہ ایام قربانی برقرار ہوں۔
وأما وقت الوجوب فأیام النحر، فلا تجب قبل دخول الوقت؛ لأن الواجبات الموٴقتة لا تجب قبل أوقاتھا کالصلاة والصوم ونحوھما، وأیام النحر ثلاثة إلخ (بدائع الصنائع، کتاب الأضحیة، ۶: ۲۸۵، ط: دار الکتب العلمیہ بیروت)۔
وسببھا الوقت وھو أیام النحر(درر الحکام في شرح غرر الأحکام، کتاب الأضحیة، ۱:۲۶۶، ط: کراتشي)۔
قولہ: ”وسببھا الوقت“: لا نزاع في سببیتہ، قولہ: ”وھو أیام النحر“:من إضافة السبب إلی حکمہ، یقال: یوم الأضحی کقولھم یوم الجمعة ویوم العید کذا في العنایة (غنیة ذوي الأحکام، في بغیة درر الحکام)۔
وتختص بأیام النحر ، وھي ثلاثة : ……، فإن مضت ولم یذبح؛ فإن کان فقیراً وقد اشتراھا تصدق بھا حیة، وإن کان غنیاً تصدق بثمنھا، اشتراھا أو لا۔ ویدخل بطلوع الفجر أول أیام النحر إلا أن أھل المصر لا یضحون قبل صلاة العید (المختار مع الاختیار، ۴: ۲۶۰، ۲۶۱، ط:دار الرسالة العالمیة)۔
ثم أول وقت الأضحیة عند طلوع الفجر الثاني من یوم النحر؛إلا أن في حق أھل الأمصار یشترط تقدیم الصلاة علی الأضحیة؛ فمن ضحی قبل الصلاة في المصر لا تجزئہ لعدم الشرط لا لعدم الوقت، ولھذا جازت التضحیة في القری بعد انشقاق الفجر، ودخول الوقت لا یختلف في حق أھل الأمصار والقری الخ (المبسوط للسرخسي،باب الأضحیة، ۱۲: ۱۰، ط:دار المعرفة بیروت)، ومثلہ في الاختیار لتعلیل المختار، واللباب في شرح الکتاب والشرنبلالیة ورد المحتار وغیرھا من کتب الفقہ۔