السلام علیکم
مفتی صاحب میرا اور میری بیوی کا جھگڑا ہوا ,میں پہلے اسکو سمجھاتا رہا مگر جب اس نے میرے مرے ہوۓ والد کو گالی نکالی تو میں اپنا ہوش و حواس کھو بیٹھا , اس قدر جنونی کیفیت تھی کہ میں نےبیوی کو تین طلاق بول دیں اورجب میں یہ الفاظ ادا کررہا تھا ایسے لگا کہ میں کہیں آسمان میں ہوں , مجھے پچھلے کچھ دنوں سے اپنے فیملی معاملات کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکا ہوں ,بات بات پرغصہ اس قدر کہ پاگل ہوجاتا ہوں , جب میں نے یہ الفاظ ادا کیے تو اس وقت میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں اپنےہوش و حواس مکمل طور پر کھو چکا تھا , مجھے تب ہوش آیا جب میں یہ الفاظ ادا کرچکا , معافی کے ساتھ یہ بھی بتادوں کہ میں نےکچھ دنوں سے ذہنی دباؤ , ہائی شوگر اور بلڈپریشر کو کم کرنے کے لئے ڈاکٹر کے مشورے پر چرس کے ایک دو سیگریٹ پینا شروع کیے ہیں , اس حوالےسےدین و قانون کی روشنی میں بتائیں کہ کیا اسطرح طلاق واقع ہوجاتی ہے ؟ نیز ایک طلاق چھ ماہ قبل اپنی بیوی کو دی تھی جسکے فوری بعد رجوع کرلیا تھا تو اب دین کے احکامات کی روشنی میں کیا حکم ہے ؟ کیا ہم میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں؟ جزاک اللہ
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق بھی شرعاً واقع ہوجاتی ہے، اس لۓ سائل نے پہلے ایک طلاق اور رجوع کے بعد اب حالیہ واقعہ میں جب تین مرتبہ طلاق دیدی ہے، تو اس سے اس کی بیوی پر بقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہٰیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتاہے، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد کسی بھی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔