Hum husband wife me kisi baat p shadeed larai hogae jis me pehle bivi ne kaha k Tum mjhe pe Haram ho jawaban meine b kaha K Tum b
mujh P Haram ho.Kia aesi Surat me ek talaq waqiah hogae or tajdeed e nikah hoga.meri bivi is waqt mere sath hi Hain. Ye Waqai Abhi do Roz qabal ka ha or humne koi azdawaji talluq b Qaim nhi Kia q K Meri bivi is waqt haiz Ki halat me hain
ترجمہ: ہم میاں بیوی میں کسی بات پہ شدید لڑائی ہوگئی ، جس میں پہلے بیوی نے کہا کہ تم مجھ پہ حرام ہو ،جواباً میں نے بھی کہا کہ تم بھی مجھ پہ حرام ہو ،کیا ایسی صورت میں ایک طلاق واقع ہوگئی؟ اور تجدیدِ نکاح ہوگا ؟ میری بیوی اس وقت میرے ساتھ ہی ہے ،یہ واقعہ ابھی دو روز قبل کا ہے اور ہم نے کوئی ازدواجی تعلق بھی قائم نہیں کیا ،کیونکہ میری بیوی اس وقت حیض کی حالت میں ہے۔
سائل نے جب لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو مذکور جملہ " تم بھی مجھ پہ حرام ہو" کہہ دیا تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے ،لہذا اب بغیر تجدید نکاح کے ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز نہیں اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی،تاہم اگر دوبارہ باہم میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنا چاہیں تو دوران عدت بھی گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ نکاح کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں اور اس صورت میں سائل کو آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ،اسلئے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط لازم ہے ۔
کما فی الشامیۃ: والحاصل أن المتأخرين خالفوا المتقدمين في وقوع البائن بالحرام بلا نية حتى لا يصدق إذا قال لم أنو لأجل العرف الحادث في زمان المتأخرين فيتوقف الآن وقوع البائن به على وجود العرف كما في زمانهم اھ (3/299)-
و فی التاتارخانیۃ: فی قولہ انت علی حرام ولم ینو العدد فھی واحدۃ وان لم ینو الطلاق فھو یمین نوی الیمین او لم ینو والفتوی علی انہ یقع الطلاق البائن وان لم ینو لغلبۃ استعمال ھذہ اللفظۃ فی ھذہ البلاد اھ (3/304)
و فی الھندیۃ:إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها اھ (4/473)