میں محمد عمر ایوب "عائشہ حفیظ الرحمٰن بنت حفیظ الرحمن خان کے علاوہ جس سے جب بھی نکاح کروں یا کوئی اور انسان جب بھی میری اجازت سے یا اجازت کے بغیر میرا نکاح عائشہ حفیظ الرحمٰن کے علاوہ کسی اور سے کرے گا تو اس عورت کو قبول کرتے ہی 3 طلاق ہونگی"بندہ نے یہ الفاظ بولے اور لکھے بھی ہیں، حالانکہ بندہ کاابھی تک کوئی نکاح نہیں ہوا؟ اب بندہ کے نکاح اور طلاق کا کیا حکم ہے۔
سائل نے جو الفاظ ادا کیے ہیں "میں عمر ایوب ،عائشہ کے علاوہ جس سے جب بھی نکاح کروں،یا کوئی اور انسان جب بھی میری اجازت سے یا میری اجازت کے بغیر میرا نکاح عائشہ کے علاوہ کسی اور سے کرے گا ،تو اس عورت کو قبول کرتے ہی تین طلاق ہونگی"ان الفاظ سےتین طلاقیں معلق ہو چکی ہیں ،لہذا سائل مذکور لڑکی مسماۃ عائشہ حفیظ الرحمن بنت حفیظ الرحمن خان کے علاوہ جب بھی کسی اور لڑکی سے نکاح کرے گا ،یا کوئی اور سائل کانکاح کروائے گا،تو سائل کا نکاح ہوتے ہی اس لڑکی پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔
کما فی الدر المختار :(وأ لفاظ الشرط) أي علامات وجود الجزاء (كلما و متى و متى ما) و نحو ذلك(و فيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعا ل وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت اھ(3/355)۔
و فی الفتاوى الهندية :و إ ذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق اھ(1/420)۔