ترجمہ : پہلی طلاق کے بعد اگر شوہر دوسری طلاق نہ دے، اور بیوی کو پاس بھی نہ رکھے تو عورت کیلئے کیا حکم ہے؟اس کا مقصد لڑکی کو گھر میں بٹھا کے اس کا ٹائم ضائع کرنا ہے، کیونکہ وہ آدمی اپنی دوسری بیوی کے پاس رہنا چاہتا ہے، عورت کے پاس کیا حق ہے، شریعت کے حوالہ سے کیا دوسری طلاق خود بخود ہو جائے گی ؟ کیا عورت کو کسی اور جگہ شادی کیلئے خلع لینی ہوگی ؟یا عورت کو تین طلاق مرد سے لینے لازمی ہے؟ عورت اب اس آدمی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ، تو شریعت میں علیحدگی کا کیا طریقہ ہے ؟ مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں، اور لڑکی کے حق کے متعلق بتا دیں۔نوٹ شخصِ مذکور نے پہلی مرتبہ ایک تحریری طلاق دے دی تھی، اس کے بعد اب دوسری مرتبہ بھی تحریری طلاق دے دی،تحریر طلاق نامہ سوال کے ساتھ منسلک ہے۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اورمبنی پر حقیقت ہواس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہواور واقعۃً شخصِ مذکور نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دیکر دورانِ عدت یا رجوع کے بعد دوسری طلاق بھی دیدی ہو جیسا کہ منسلکہ طلاق نامہ میں درج ہے تو اس سے شخصِ مذکور کی بیوی پر دوسر ی طلاق بھی واقع ہوگئی ہے ،البتہ شوہر کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہے، لیکن اگر شوہر دور انِ عدت زبانی طور پر یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قا ئم کر کے رجوع نہ کرے تو عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا ،اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الدر المختار : (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) و لو بالفارسية (كطلقتك و أنت طالق ومطلقة)اھ(3/247)۔
و فی الهندية :و فيه أيضا رجل استكتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقها و قرأه على الزوج فأخذه و طواه وختم وكتب في عنوانه و بعث به إلى امرأته فأتاها الكتاب و أقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها اھ(ـ1/379)۔
و فی الہدایۃ : "و إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة:231] من غير فصل و لا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك اھ(2/254)۔