سوال :مقروض نے پیسے دے دیے بعد میں ایک پانچ ہزار کا نوٹ نقلی نکلا گواہ کس کے ذمے ہیں اور قسم کس کے ذمے ہے؟
90000 ہزار کی چیز خریدی تھی موقع پر پیسے دے دیے بعد میں بائع کہتا ہے کہ ایک پانچ ہزار والا نوٹ جعلی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر بائع یہ دعویٰ کرے کہ خریدار کی طرف سے ادا کیے گئے نوٹوں میں ایک پانچ ہزار روپے کا نوٹ جعلی تھا اور خریدار اس کا انکار کرے، تو شرعاً بائع مدعی ہے، اس لیے دعویٰ ثابت کرنے کے لیے گواہ پیش کرنا اسی کے ذمہ ہوگا، اور اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکے تو خریدار مدعىٰ علیہ ہونے کی حیثیت سے اس پر قسم ہوگی۔ اگر خریدار قسم اٹھا لے تو اس کا قول معتبر ہوگا اور بائع کا دعویٰ ثابت نہ ہوگا۔
کما فی صحيح البخاري:2514 - حدثنا خلاد بن يحيى حدثنا نافع بن عمر عن ابن أبي مليكة قال كتبت إلى ابن عباس فكتب إلي إن (أن) النبي صلى الله عليه وسلم قضى أن اليمين على المدعى عليه (ص: 1162)
وفی البحرالرائق شرح کنز الدقائق: (قوله المدعي من إذا ترك ترك والمدعى عليه بخلافه) أي المدعي من لا يجبر على الخصومة إذا تركها والمدعى عليه من يجبر على الخصومة إذا تركها، ومعرفة الفرق بينهما من أهم ما يبتنى عليه مسائل الدعوى، وقد اختلفت عبارات المشايخ فيه فمنها ما في الكتاب، وهو حد عام صحيح، وقيل المدعي من لا يستحق إلا بحجة كالخارج والمدعى عليه من يكون مستحقا بقوله من غير حجة كذي اليد، وقيل المدعي من يتمسك غير الظاهر والمدعى عليه من يتمسك بالظاهر، وقال محمد فی الأصل المدعى عليه هو المنكر، وهذا صحيح. (كتاب الدعوى، ج:7، ص:193، ط:دار الكتاب)