دراصل میں اپنے بیٹے کی تقریب عقیقہ سے متعلق سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔
اسلام میں عقیقہ واجب ہے یا اختیاری؟
میرا بیٹا دو سال کا ہے اس لیے میں ابھی عقیقہ کر سکتا ہوں یا کوئی خاص عمر ہے؟
میں اپنی والدہ کی قربانی کے لیے رقم ادا کر رہا ہوں اور اس سال کم بجٹ کی وجہ سے میں قربانی یا عقیقہ میں سےکوئی ایک کر سکتا ہوں۔ تو کیا میں قربانی کو ترجیح دوں یا عقیقہ؟
واضح ہو کہ عقیقہ کرنا ایک مسنون و مستحب عمل ہے،جس کا بچے کی پیدائش کے ساتویں،چودھو یں یا اکیسویں دن اہتمام کرنا چاہئے،لیکن اگر ان ایام میں کسی وجہ سے عقیقہ نہ کیا جاسکے تو بعد میں بھی بچے کی پیدائش کے ساتویں دن کا اعتبار کرتے ہوئے عقیقہ کیا جاسکتاہے،لہذا سائل کے لئے اب بھی بچے کی پیدائش کے ساتویں دن کا اعتبار کرتے ہوئے اپنے بیٹے کا عقیقہ کرنا جائز ہے۔
جبکہ سائل کی والدہ اگر زندہ ہے اور سائل ہر سال اسے قربانی کی رقم ادا کر رہا ہو تو والدہ کی دلجوئی کےلئے اگر سائل وقتی طور پرعقیقہ کو موقوف کرکے والدہ کی قربانی کی رقم ادا کرے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوگا۔