مفتی صاحب ایک مسلہ پوچھنا تھا کے ایک بندہ جذبات میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتا ہے مگر اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتا اور اب رجوع حلالے کے بغیر ممکن نہیں اور لڑکی اس کا دل حلالے کی وجہ سے کشمکش میں ہے کہ کروں نہ کروں بعد میں پھر رو رو کے اللہ سے مانگتا ہے تہجد میں نماز میں اور صلوة الجاجت میں نوافل میں اور پیر جمعرات کا روزہ بھی اس نیت سے رکھتا ہے کہ وہ اب حلالے کے ذریعے دوبارہ راضی ہو جاۓ کیا اللہ پاک سے یہ دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں ؟یہ نہ ہو اب یہ دعا مانگنا بھی پکڑ کا سبب نہ بن جاۓ رہنمائی فرما دیں شکری
جی ہاں !اس طرح دعاء کرسکتے ہیں شرعا اس میں کوئی حرج نہیں،البتہ اگر اس طرح دعا کی جائے" کہ یااللہ ہم میاں بیوی میں طلاق ہوگئی ہے،ہمارے لئے دبارہ ایک ساتھ ملنے کی کوئی سبیل پیدا فرمادے"تو بہتر ہے۔