کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں نے آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل اپنی منکوحہ بیوی کو دو طلاقیں دی تھیں، اور اس کے بعد میں نے کسی قسم کا رجوع نہیں کیا، اور عدت کا زمانہ گزر چکا ہے ، لیکن اس کے باوجود وہ عورت میرے گھر میں بیٹھی ہوئی ہے میرا مکان خالی نہیں کررہی ، میری بارہ (12) سال کی بیٹی بھی اس کے پاس ہے ، جس کی تربیت غلط ہاتھوں میں ہے ، میں نے یہ معلوم کرنا ہے کہ طلاق اور عدت کے بعد میری مطلقہ بیوی کا میرے گھر میں زبر دستی رہنا ، اور میری بیٹی کو اپنے قبضے میں رکھنا جائز ہے کہ نہیں ؟ ایسی صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے ۔
سائل نے جب اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیدی ہیں اور عدت کے اندر کسی قسم کا رجوع بھی نہیں کیا تو ایسی صورت میں عدت گزرنے سے سائل اور اس کی بیوی کا نکاح بالکلیہ ختم ہو چکا ہے ، اب وہ دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہیں ، اس لئےسائل کی بیوی کیلئے بغیر تجدید نکاح کے سائل کے گھر میں رہنا شرعاً درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ، جبکہ بچی کی عمر نو سال مکمل ہونے تک اگرچہ شریعت نے اس کی ماں کو اس کی پرورش کا حقدار بنایا ہے ، لیکن اس کے بعد ماں کیلئے بیٹی کو اپنے پاس روکے رکھنا درست نہیں ، لہذا سائل اپنی بارہ سالہ بیٹی کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے ، تاہم بچی سائل کی کفالت میں ہو یا ا پنی والدہ کی کفالت میں ،دونوں صورتوں میں ان دونوں کیلئے ایک دوسرے کو بچی کی ملاقات سے روکنے کا حق حاصل نہیں ۔
فی الفتاوى الهندية :و إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية اھ(1/470)۔
وفی بدائع الصنائع : فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت وهذا عندنا اھ (3/180)۔
وفی الفتاوى الهندية : إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة و بعد انقضائها اھ (1/473)۔