کسی شخص نے اگر اپنی بیوی کو ایک دفعہ کاغذ پر لکھ کے طلاق دی , پر پھر رجوع کر لیا ،کچھ عرصہ بعد وقفے وقفے سے دو طلاق کے کاغذات ملے ، پر نہ دستخط تھے نہ منہ سے ایسے الفاظ ادا کیے ، کیا اس کے بعد رجوع کی کوئی گنجائش موجود ہے؟
سائلہ نےاس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مذکور طلاق نامے شوہر نے از خود تیار کروائے تھے یا کسی اور نے طلاق نامہ تحریر کیا تھا ، تاکہ اُسکے مطابق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جاتا۔
لہذا سوال میں ذکر کردہ بیان کے مطابق اگر شوہر نے ایک طلاقِ رجعی دے کر دورانِ عدت رجوع کر لیا ہو تو نکاح برقرار تھا ، البتہ اسکے بعد جو دو طلاق نامے ملے ہیں ، اسکے بارے میں مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کردیں ، إن شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
کما فی الدر المختار : كتب الطلاق ، إن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى ، و قيل مطلقا ، و لو على نحو الماء فلا مطلقا. و لو كتب على وجه الرسالة و الخطاب ، كأن يكتب يا فلانة : إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب۔اھ (3/246)۔