السلام علیکم ! ایک 82 سالہ بزرگ نے اپنی 72 سالہ بیگم کو ایک وقت میں 3 طلاق د یدی ، یہ واقعہ جھگڑے کی وجہ سے انتہائی غصہ کی حالت میں ہوا ، حضرت ! عمر کی وجہ سے شدید نسیان کا شکار بھی ہیں ،لیکن طلاق کا واقعہ ان کو یاد ہے ، ان لوگوں کی عمر کی رعایت میں کیا تجدید نکاح کی کوئی صورت ہے ؟ جب کے دونوں کے بیٹے ساتھ ہی مقیم ہیں ، ایسی صورتحال میں خاتون کے لئے کیا حکم ہے؟ بیان فرمائے ،جزاک اللہ خیرا۔
واضح ہو کہ عمر کی زیادتی یا محض وقتی غصہ اور جذبات کی وجہ سے وقوع طلاق متاثر نہیں ہوتا ، بلکہ اس حالت میں دی جانے والی طلاق بھی شرعا واقع ہو جاتی ہے ، لہذا سوال میں مذکور معمر شخص نے اگر اپنے ہوش و حواس میں اپنی بیوی کو ایک وقت میں واضح الفاظ ( جیسے تجھے طلاق ہے و غیرہ ) کے ساتھ تین طلاقیں دیدی ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، تاہم عمر کے اس حصے میں اگر مذکور مرد اور عورت کے لئے الگ الگ گھر میں رہائش رکھنا ممکن نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں عورت اپنے بیٹے کے ساتھ الگ کمرہ میں اس طرح رہائش اختیار کر سکتی ہےکہ اس کا سابقہ شوہر کے ساتھ میل جول اور کوئی تعلق باقی نہ رہے بلکہ ایک اجنبی مرد کی طرح اس سے پردہ شرعیہ کا اہتمام لازم ہوگا ۔
کما فی اعلاء السنن : عن ابی ھریرۃ قال : قال : رسول اللہ ﷺ ثلاث جدھن جد و ھزلھن جد النکاح ، الطلاق ، و الرجعۃ ( ج۔11 ۔ ص۔ 216 ) ۔
و فی رد المحتار : تحت ( قولہ ثلاثۃ متفرقۃ ) و کذا بکلمۃ واحدۃ بالاولی ( الی قولہ ) لما فی مسلم ان ابن عباس قال : کان الطلاق علی عہد رسول اللہ ﷺ ( الی قولہ ) طلاق الثلاث واحدۃ ، فقال عمر : ان الناس قد استعجلوا فی امر کان لھم فیہ اناۃ ، فلو امضیناہ علیھم فامضاہ علیھم ، و ذھب جمھور الصحابۃ و التابعین و من بعدھم من ائمۃ المسلمین الی انہ یقع ثلاث الخ ( کتاب ۔ الطلاق ۔ ج ۔ 3 ۔ ص۔ 233 ) ۔
و فی الدر المختار : و سئل شیخ الاسلام عن زوجین افترقا و لکل منھما ستون سنۃ و بینھما اولاد تتعذر علیھما مفارقتھم فیسکنان فی بیتھم و لا یجتمعان فی فراش و لا یلتقیان التقاء الازواج ، ھل لھما ذلک ؟ قال : نعم الخ ( فصل ۔ الحداد ۔ ج ۔ 3 ۔ ص۔ 534 )۔