السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔
1 :- مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لئے ختمِ قرآن کرنا کیسا ہے ؟
2:-قبرستان جاتے ہوئے راستے میں سورتِ فاتحہ اور سورتِ اخلاص بغیر گنتی کے اول و آخر تین تین بار درود ابراہیمی پڑھ کر اہلِ قبور کو ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ یا ان کی طرف سے صدقہ خیرات کریں؟
احادیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
(1)۔مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لئے ختمِ قرآن کرنا بلاشبہ جائز ، بلکہ مستحسن ہے ، البتہ اس کے لئے قرآن خوانی کا جو طریقہ کار ہمارے معاشرے میں رائج ہے ، وہ کئی سارے شرعی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں، بلکہ علماء نے اس سے منع فرمایا ہے، اس لئے مروجہ قرآن خوانی سے بچنا لازم ہے ، البتہ اس کا بہتر اور درست طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کو جمع کرنے کے بجائے گھر کے ہی افراد اجتماعی طور پر یا انفرادی طور پر پورا قرآن مجید یا کچھ سورتیں پڑھ کر اپنے مرحومین کے لئے ایصال ثواب کریں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
(2)۔جی ہاں! قبرستان جاتے ہوئے راستے میں سورتیں (سورتِ فاتحہ اور سورتِ اخلاص وغیرہ) پڑھ کر بھی اہلِ قبرستان کو اس کا ثواب پہنچایا جاسکتا ہے ، جبکہ مالی عبادات ، جیسے صدقہ خیرات کرکے ایصالِ ثواب کرنا بھی بالاتفاق جائز ہے، بشرطیکہ ریا کاری سے بچتے ہوئے کیا جائے۔
فی حاشية ابن عابدين : [تنبيه] صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية ، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط : الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين و المؤمنات لأنها تصل إليهم و لا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة و الجماعة ، لكن استثنى مالك و الشافعي العبادات البدنية المحضة كالصلاة و التلاوة فلا يصل ثوابها إلى الميت عندهما، بخلاف غيرها كالصدقة و الحج . و خالف المعتزلة في الكل ، و تمامه في فتح القدير .
أقول: ما مر عن الشافعي هو المشهور عنه . و الذي حرره المتأخرون من الشافعية وصول القراءة للميت إذا كانت بحضرته أو دعا له عقبها و لو غائبا لأن محل القراءة تنزل الرحمة و البركة و الدعاء عقبها أرجى للقبول ، و مقتضاه أن المراد انتفاع الميت بالقراءة لا حصول ثوابها له ، و لهذا اختاروا في الدعاء : اللهم أوصل مثل ثواب ما قرأته إلى فلان ، و أما عندنا فالواصل إليه نفس الثواب . و في البحر : من صام أو صلى أو تصدق و جعل ثوابه لغيره من الأموات و الأحياء جاز ، و يصل ثوابها إليهم عند أهل السنة و الجماعة كذا في البدائع ، ثم قال : و بهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتا أو حيا . و الظاهر أنه لا فرق بين أن ينوي به عند الفعل للغير أو يفعله لنفسه ثم بعد ذلك يجعل ثوابه لغيره ، لإطلاق كلامهم ، و أنه لا فرق بين الفرض و النفل . اهـ . و في جامع الفتاوى : و قيل: لا يجوز في الفرائض اهـ . (2/ 243)-