ترجمہ: کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ جہاں میری شادی ہورہی ہے کچھ وجوہات کی بنا پر ان لوگوں سے میرے والد مطمئن نہیں ہے ، لہذا وہ میری حفاظت کے لئے نکاح میں ایک شرط لکھوانا چاہتا ہے کہ اللہ نہ کرے اگر میرا شوہر مجھے طلاق دیتا ہے تو وہ مجھے دس لاکھ روپے اور ایک گھر رہائش کےلئے میرے نام کرائے گا تاکہ میں دربدر نہ ہوں ، کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں؟
سائلہ کے والد کا مذکور شرط چونکہ شرعاً معتبر نہیں ، اس لئے بعد میں سائلہ کے لئے شرط کے مطابق اپنے شوہر سے دس لاکھ روپے اور رہائشی مکان کے مطالبے کاحق حاصل نہ ہوگا ، تاہم اگر سائلہ کے والد کو کسی وجہ سے اس رشتے پر اطمینان نہ ہو تو مذکور شرط رکھنے کےبجائے سائلہ کےلئے بطورِ حقِ مہر رہائشی مکان اور مذکور رقم وغیرہ مختص کردے ، چنانچہ ایسا کرنے سے سائلہ کے والد کا مقصد پورا ہوجائے گا۔
ففی الدر المختار: (وما) يصح و (لا يبطل بالشرط الفاسد) لعدم المعاوضة المالية سبعة وعشرون ما عده المصنف تبعا للعيني وزدت ثمانية (القرض والهبة والصدقة والنكاح والطلاق والخلع والعتق والرهن والإيصاء.
وفی رد: (تحت قولہ والنكاح) كتزوجتك على أن لا يكون لك مهر فيصح النكاح ويبطل الشرط ويجب مهر المثل، ومن هذا القبيل ما في الخانية تزوجتك على أني بالخيار يجوز النكاح ولا يصح الخيار لأنه ما علق النكاح بالشرط بل باشر النكاح وشرط الخيار اهـ وليس منه إن أجاز أبي أو رضي لأنه تعليق والنكاح لا يحتمله فلا يصح(٢٤٩/٥)۔
و فیہ ایضاً: ولکن لا یبطل النکاح (بالشرط الفاسد ) وانما (یبطل الشرط دونہ) یعنی لو عقد مع شرط فاسد لم یبطل النکاح بل الشرط۔الخ۔(53/3)۔