السلام علیکم ! مجھے اکثر عادت یہ ہے کہ کوئی فرضی کہانی سوچتا ہوں اور دماغ اس کو مزید آگے بڑھا تا چلاجاتا ہے ، میں شاور لے رہاتھا کہ میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ دیکھا ، حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ، کوئی کہانی مووی کا سین خیال بن کے آگیا ، میرا اپنا خیال ہے میں اس سے پوچھا کہ وہ اس کے ساتھ سوئی ہے ، اور وہ ہاں کہتی ہے کہ میں خیال ہی میں اس کو ایک طلاق دے دیتا ہوں یا پھر سرگوشی سے ، جیسے ہی یہ معاملہ ہوا مجھے ہوش آگیا جیسے بندہ نیند سے بیدار ہو ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس سے ایک طلاق ہوگئی؟ یا پھر یہ شیطان کا وسوسہ ہے ، کیونکہ سارا دن نماز میں بھی ارکان کا وسوسہ آتا ہے ، اور اگر ایسا کرنے سے طلاق واقع ہو گئی تو رجوع کی کیا صورت ہے ، میں دوسرے ملک میں ہوتا ہوں اور اس کو اس سارے واقعہ کا علم نہیں ہے ۔جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ طلاق کے وقوع کے لئے زبان سے الفاظِ طلاق کا تلفظ کرنا ضروری ہے ، بغیر لفظ کئے فقط خیال میں اپنی بیوی کو طلاق دینے سے شرعاً بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ، لہذا سائل نے اگر زبان سے الفاظ ِطلاق ادا نہ کئے ہوں بلکہ محض خیال ہی خیال میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہو ، تو اگرچہ ایسا کرنے سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم سائل کو ایسے خیالات کی پیروی کرنے اور اسے مزید تقویت دینے کےبجائے فوراً کسی دوسرے کام میں مشغول ہو جانا چاہیئے، تاکہ وساوس کی بیماری کا سد باب ہو سکے۔
كمافی الدر المختار: (هو) لغة رفع القيد (الی قوله ) وشرعاً ( رفع قيد النكاح في الحال بالبائن (أو المال ) بالرجعى ( بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق الخ (كتاب الطلاق ، ج ۳، ص 136-137، سعید) ۔
وفي الهندية : ولا يقع طلاق الصبی وان كان يعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش هكذا في فتح القدير الخ (فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه ج ا ص ٣٥٣، ط: ماجية ) ۔