کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے کچھ سال قبل بیوی کو ایک طلاق دی ان الفاظ سے کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ اور پھر بہن نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ، جبکہ طلاق کا جملہ منہ سے ادا ہو گیا تھا، لیکن ہم اس کے بعد بلا تعطل میاں بیوی کی طرح رہتے رہے، پھر ابھی فون پر لڑائی کے دوران شوہر نے اس طرح طلاق دی کہ ”سمرین نفیس میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ اور دوسری اور تیسری مرتبہ یوں کہا کہ ” سمرین نفیس میں تمہیں دیتا ہوں“ طلاق کا لفظ بیچ میں نہیں بولا، جبکہ میری بیوی کا کہنا ہے کہ آپ نے ”لفظِ طلاق“ بھی بولا تھا ، اب آپ بتائیں کہ اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور ا ب ہمارے لئےحکمِ شرعی کیا ہے؟
مزید وضاحت: پہلی دو طلاقوں میں میاں بیوی کا اتفاق ہے کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ جملہ بولا گیا ہے، لیکن بعد کے دو جملوں میں بیوی کا اختلاف ہے۔بیوی مسماۃ سمرین نفیس کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گی، سچ کہوں گی،اگر میں نے جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اللہ کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، اور بیان یہ ہے کہ میرے شوہر نے فون پر بھی تینوں مرتبہ یہی الفاظ بولے تھے کہ ” سمرین نفیس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ ۔جبکہ شوہر مسمیٰ عبد السمیع کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا، سچ کہوں گا، اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب مجھ پر ہوگا، میں نے فون پر پہلے جملے میں تو طلاق کا لفظ بولا تھا، لیکن آخری دو جملوں میں طلاق کا لفظ نہیں بولا تھا، بلکہ صرف یہ کہا تھا کہ ”میں تمہیں دیتا ہوں“ اور یہ میں نے صرف ڈرانے کیلئے کہا تھا، جبکہ موقع پر موجود سمرین کی بھابھی کا کہنا ہےکہ موبائل کا لاؤڈ اسپیکر آن تھا، اور اُس نے طلا ق کا لفظ بولا تھا ، صرف ”دیتا ہوں“ نہیں کہا تھا۔
واضح ہو کہ مفتی غیب نہیں جانتا،وہ سوال کے مطابق جواب دینے کاپابند ہوتاہے، سوال کے سچ یاجھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سوال کرنے والے پرعائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہوکہ صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کی بیوی دو طلاقوں میں تو متفق ہیں، البتہ تیسری طلاق میں دونوں کا اختلاف ہے، چنانچہ سائل کی بیوی حالیہ واقعہ میں شوہر کے خلاف مذکور الفاظ ”سمرین نفیس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ تین مرتبہ کہنے کا دعویٰ کررہی ہے ،جبکہ شوہر مسمیٰ عبد السمیع مذکور الفاظ کہ ”سمرین نفیس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ کے تین مرتبہ کہنے سے انکاری ہے، اور شوہر کا کہنا ہےکہ میں نےیہ جملے تینوں مرتبہ لفظِ طلاق کے ساتھ نہیں کہے، بلکہ فقط ایک مرتبہ لفظِ طلاق کہا، جبکہ بیوی کے پاس اپنا دعوی ثابت کرنے کیلئے کوئی شرعی شہادت موجود نہیں،اس لئے قضاءً تینوں طلاقیں واقع ہو کرحرمتِ مغلظہ ثابت ہونے کا حکم تو نہیں لگایا جا سکتا،لیکن جب بیوی اپنے کانوں سےالفاظِ طلاق کا سننابیان کررہی ہے اوراپنے بیان پر حلف اُٹھانے کو بھی تیار ہےتو اس پرلازم ہےکہ”المرأة كالقاضي“کے اصول کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھےاورشوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے ،تاہم یہ معاملہ اگرقاضی (جج) کی عدالت میں چلاجائے اور قاضی طلاقوں کے متعلق گواہ نہ ہونے کی وجہ سےشوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گنہگار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اسے چاہئے کہ شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، بلکہ طلاق بالمال یاخلع کے ذریعے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہرممکن کوشش کرے۔
کما فی البحر الرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه۔اھ (3/ 277)
وفی الدر المختار: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه۔اھ (3/ 251)
وفی الفتاویٰ الھندیة: والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها۔اھ (1/ 354)