طلاق

میاں بیوی کا تیسری طلاق میں اختلاف ہو تو کیا حکم ہے ؟

فتوی نمبر :
70101
| تاریخ :
2024-01-02
معاملات / احکام طلاق / طلاق

میاں بیوی کا تیسری طلاق میں اختلاف ہو تو کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے کچھ سال قبل بیوی کو ایک طلاق دی ان الفاظ سے کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ اور پھر بہن نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ، جبکہ طلاق کا جملہ منہ سے ادا ہو گیا تھا، لیکن ہم اس کے بعد بلا تعطل میاں بیوی کی طرح رہتے رہے، پھر ابھی فون پر لڑائی کے دوران شوہر نے اس طرح طلاق دی کہ ”سمرین نفیس میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ اور دوسری اور تیسری مرتبہ یوں کہا کہ ” سمرین نفیس میں تمہیں دیتا ہوں“ طلاق کا لفظ بیچ میں نہیں بولا، جبکہ میری بیوی کا کہنا ہے کہ آپ نے ”لفظِ طلاق“ بھی بولا تھا ، اب آپ بتائیں کہ اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور ا ب ہمارے لئےحکمِ شرعی کیا ہے؟

مزید وضاحت: پہلی دو طلاقوں میں میاں بیوی کا اتفاق ہے کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ جملہ بولا گیا ہے، لیکن بعد کے دو جملوں میں بیوی کا اختلاف ہے۔بیوی مسماۃ سمرین نفیس کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گی، سچ کہوں گی،اگر میں نے جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اللہ کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، اور بیان یہ ہے کہ میرے شوہر نے فون پر بھی تینوں مرتبہ یہی الفاظ بولے تھے کہ ” سمرین نفیس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ ۔جبکہ شوہر مسمیٰ عبد السمیع کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا، سچ کہوں گا، اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب مجھ پر ہوگا، میں نے فون پر پہلے جملے میں تو طلاق کا لفظ بولا تھا، لیکن آخری دو جملوں میں طلاق کا لفظ نہیں بولا تھا، بلکہ صرف یہ کہا تھا کہ ”میں تمہیں دیتا ہوں“ اور یہ میں نے صرف ڈرانے کیلئے کہا تھا، جبکہ موقع پر موجود سمرین کی بھابھی کا کہنا ہےکہ موبائل کا لاؤڈ اسپیکر آن تھا، اور اُس نے طلا ق کا لفظ بولا تھا ، صرف ”دیتا ہوں“ نہیں کہا تھا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مفتی غیب نہیں جانتا،وہ سوال کے مطابق جواب دینے کاپابند ہوتاہے، سوال کے سچ یاجھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سوال کرنے والے پرعائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہوکہ صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کی بیوی دو طلاقوں میں تو متفق ہیں، البتہ تیسری طلاق میں دونوں کا اختلاف ہے، چنانچہ سائل کی بیوی حالیہ واقعہ میں شوہر کے خلاف مذکور الفاظ ”سمرین نفیس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ تین مرتبہ کہنے کا دعویٰ کررہی ہے ،جبکہ شوہر مسمیٰ عبد السمیع مذکور الفاظ کہ ”سمرین نفیس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ کے تین مرتبہ کہنے سے انکاری ہے، اور شوہر کا کہنا ہےکہ میں نےیہ جملے تینوں مرتبہ لفظِ طلاق کے ساتھ نہیں کہے، بلکہ فقط ایک مرتبہ لفظِ طلاق کہا، جبکہ بیوی کے پاس اپنا دعوی ثابت کرنے کیلئے کوئی شرعی شہادت موجود نہیں،اس لئے قضاءً تینوں طلاقیں واقع ہو کرحرمتِ مغلظہ ثابت ہونے کا حکم تو نہیں لگایا جا سکتا،لیکن جب بیوی اپنے کانوں سےالفاظِ طلاق کا سننابیان کررہی ہے اوراپنے بیان پر حلف اُٹھانے کو بھی تیار ہےتو اس پرلازم ہےکہ”المرأة كالقاضي“کے اصول کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھےاورشوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے ،تاہم یہ معاملہ اگرقاضی (جج) کی عدالت میں چلاجائے اور قاضی طلاقوں کے متعلق گواہ نہ ہونے کی وجہ سےشوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گنہگار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اسے چاہئے کہ شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، بلکہ طلاق بالمال یاخلع کے ذریعے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہرممکن کوشش کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحر الرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه۔اھ (3/ 277)
وفی الدر المختار: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه۔اھ (3/ 251)
وفی الفتاویٰ الھندیة: والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها۔اھ (1/ 354)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70101کی تصدیق کریں
0     707
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات