ہم میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا ، جس میں میری زوجہ نے طلاق کا مطالبہ کیا ، جس کے جواب میں، میں بولا " میرے سر سے ٹل جاؤ" اس کے کچھ دیر بعد میری زوجہ نے کہا " یہاں سے جاؤگے تو چھوڑ کر جانا " ( چھوڑ کر جانے سے مراد ناراضگی اختیار کرنا تھا ) میں نے غصے کی حالت میں بولا " میں نے چھوڑدیا ، چھوڑدیا ، چھوڑدیا " میں سسرال میں رہتا ہوں شادی کے بعد سے ، اس پوری کیفیت میں شریعت کا حکم دیکھنا ہے کہ ایک طلاق ہوئی یا مکمل طلاق ہوگئی یا نہیں ہوئی ہیں ؟ یہ جتنے بھی معاملات ہوئے شدید غصے کی حالت میں ہوئے ، شرعی حکم بتاکر ہماری رہنمائی فرمائیں ؟ جھگڑے کے وقت میں چرس پی رہا تھا ۔
واضح ہو کہ غصے اور نشے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہٰذا سائل نے جب بیوی کے مطالبہ طلاق کے جواب میں مذکور جملہ "میں نے چھوڑدیا ، چھوڑدیا ، چھوڑدیا " کہہ دیا ، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے ، جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
قال اللہ تعالٰی : فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ( سورۃ البقرۃ آیت230)۔
و فی احکام القرآن للجصاصؒ: ( فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ) فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنین و لم یفرق بین ایقاعھما فی طھر واحد او فی اطھار فوجب الحکم بایقاع الجمیع علی ایّ وجہ اوقعہ الخ (ج1 ص386 ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان ) ۔
و فی جامع الترمذی: عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ ثلاث جدھن جد و ھزلھن جد ، النکاح و الطلاق و الرجعۃ : ھٰذا حدیث حسن غریب ( ج1 ص 225 باب ماجاء فی الجد و الھزل فی الطلاق ط: المیزان)۔
و فی رد المحتار تحت ( قولہ حرام ) و لو قال حلال ( أیزد بروی ) او حلال اللہ علیہ حرام لا حاجۃ الی النیۃ ، و ھو الصحیح المفتی بہ للعرف و انہ یقع بہ البائن لانہ المتعارف ثم فرق بینہ و بین سرحتک فان سرحتک کنایۃ لکنہ فی عرف الفرس غلب استعمالہ فی الصریح ، فاذا قال (رھا کردم) ای سرحتک یقع بہ الرجعی مع ان اصلہ کنایۃ ایضا ، و ما ذاک الّا لانہ غلب فی عرف الفرس استعمالہ فی الطلاق ، و قد مر ان الصریح ما لم یستعمل الّا فی الطلاق من ایّ لغۃ کانت ، لکن لما غلب استعمال حلال اللہ فی البائن عند العرب و الفرس وقع بہ البائن ، و لولا ذلک لوقع بہ الرجعی الخ ( ج3 ص 299 باب الکنایات ط سعید ) ۔
و فی بدائع الصنائع: و حال الغضب و مذاکرۃ الطلاق دلیل ارادۃ الطلاق ظاھرا فلایصدق فی الصرف عن الظاھر قال و ان نوی بائنا فبائن و ان نوی ثلاث فثلاث لان ھٰذا اللفظ و ان کان صریحا فی الفارسیۃ فمعناہ التخلیۃ فی العربیۃ الخ (ج3 ص102 فصل ومنھا النیۃ ط:سعید)۔