امامت و جماعت

وتر کی تیسری رکعت میں امام رکوع میں چلا جائے اور مقتدی نے دعاءِ قنوت پوری نہ کی ہو تو وہ کیا کرے ؟

فتوی نمبر :
70996
| تاریخ :
2024-02-17
عبادات / نماز / امامت و جماعت

وتر کی تیسری رکعت میں امام رکوع میں چلا جائے اور مقتدی نے دعاءِ قنوت پوری نہ کی ہو تو وہ کیا کرے ؟

مفتی صاحب باجماعت وتر پڑھتے ہوئے جب تیسری رکعت میں امام اور مقتدی اکٹھے دعائے قنوت پڑھیں گے تو اگر ایسا ہوا کہ امام نے دعائے قنوت جلدی پڑھ کر رکوع کر لیا اور مقتدی ابھی دعائے قنوت پڑھ رہے تھے ان کی پوری نہیں ہوئی تھی تو مقتدی کیاکرےگا وہ دعا چھوڑ کر رکوع کرے گا یا دعائے قنوت پوری پڑھ کر رکوع کرے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

وتر کی تیسری رکعت میں مقتدی کے دعائے قنوت مکمل کر لینے سے قبل اگر امام رکوع میں چلاجائے تو مقتدی کو بھی امام کی اقتداکرتے ہوئے رکوع میں اس کے ساتھ شریک ہوجانا چاہیئے،اور اس کی وجہ سے اس کی نماز کی صحت متاثر نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی حاشیۃ الطحطاوی: ولو ركع في الوتر قبل أن يتم المقتدي القنوت تابعه لأن القنوت ليس بمعين ولا مقدار له أما إذا كان لم يقرأ شيئا منه ينظر إن خاف فوت الركوع بقراءة شيء منہ تركه وركع وإلا قرأ مقدار ما لا يفوته الركوع مع الإمام الخ(ص 256 ط: رشیدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70996کی تصدیق کریں
0     1051
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات