مفتی صاحب باجماعت وتر پڑھتے ہوئے جب تیسری رکعت میں امام اور مقتدی اکٹھے دعائے قنوت پڑھیں گے تو اگر ایسا ہوا کہ امام نے دعائے قنوت جلدی پڑھ کر رکوع کر لیا اور مقتدی ابھی دعائے قنوت پڑھ رہے تھے ان کی پوری نہیں ہوئی تھی تو مقتدی کیاکرےگا وہ دعا چھوڑ کر رکوع کرے گا یا دعائے قنوت پوری پڑھ کر رکوع کرے گا؟
وتر کی تیسری رکعت میں مقتدی کے دعائے قنوت مکمل کر لینے سے قبل اگر امام رکوع میں چلاجائے تو مقتدی کو بھی امام کی اقتداکرتے ہوئے رکوع میں اس کے ساتھ شریک ہوجانا چاہیئے،اور اس کی وجہ سے اس کی نماز کی صحت متاثر نہ ہوگی۔
کما فی حاشیۃ الطحطاوی: ولو ركع في الوتر قبل أن يتم المقتدي القنوت تابعه لأن القنوت ليس بمعين ولا مقدار له أما إذا كان لم يقرأ شيئا منه ينظر إن خاف فوت الركوع بقراءة شيء منہ تركه وركع وإلا قرأ مقدار ما لا يفوته الركوع مع الإمام الخ(ص 256 ط: رشیدیۃ)۔