محترم عالم! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ،
آپ سے اپیل ہے کہ میرا سوال فتوی کےلئے ہے، میں مہینے بھر میں اپنی کمیٹی یا بی سی میں 10000 روپے دیتا ہوں، قربانی کی معیشت کے دن تک میں نے پہلے چار مہینے میں %40یعنی چار کمیٹی دی چکی ہوتی ہے، اور باقی %60مہینہ وار دیتا رہا ہوں، میری کمیٹی چوتھے مہینے میں کھلی، اور مجھے ایک لاکھ روپے مل گئے، کیا اب میں اس لاکھ روپے کو قربانی کے لئے استعمال کر سکتا ہوں؟ شکریہ۔
واضح ہو کہ سائل کو کمیٹی کھلنے پر جو ایک لاکھ روپے ملے ہیں وہ رقم سائل کی ملکیت ہے، اور اسے اپنی قربانی کےلئے استعمال میں لانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، البتہ باقی جو چھ کمیٹیوں کی رقم (60000) دینی باقی ہے وہ سائل کے ذمہ قرض ہے جس کی ادائیگی سائل پر بہر صورت لازم ہوگی،لہٰذا سائل کی ملکیت میں ایّامِ عید (دسویں، گیارہویں اور بارہویں تاریخ) میں واجب الادا اقساط اور دیگر قرضے وغیرہ منہا کرنے کے بعد اگر ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس قدر چاندی کی مالیت کے برابر مالِ تجارت، نقدی یا رہائش اور ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود ہو یا ان سب کا مجموعہ بقدرِ نصاب ہو تو سائل صاحبِ نصاب ہے، لہٰذا اس پر قربانی لازم ہوگی۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: والقرض هو أن يقرض الدراهم والدنانير أو شيئا مثليا يأخذ مثله في ثاني الحال (إلی قولہ) قال الفقيه رحمه الله تعالى لا بأس بأن يستدين الرجل إذا كانت له حاجة لا بد منها وهو يريد قضاءها اھ (ج5،صـــ366،ط:ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) إلخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية اھ (ج6،صـــ312،ط:سعید)۔