السلام علیکم! آج میں اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی اور گناہ آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں، میں بہت زیادہ شرمندہ ہوں خود سے اور اپنے خدا سے، تقریباً آج سے 1.5 سال پہلے میرا نکاح ہوا مؤرخہ 12.02.2023 کو، پھر دو مہینے تک میں اپنے سسرال میں کسی سے رابطے میں نہیں تھا،کیونکہ اس وقت میری رخصتی نہیں ہوئی تھی،اسی میں ایک سال کا ٹائم رکھا گیا تھا،میری ساس کو بالکل اچھا نظر نہیں آرہا تھا کہ میں ان سے رابطے میں کیوں نہیں ہوں ،اور ان کو لگ رہا تھا کہ میں اس نکاح سے خوش نہیں ہوں، پھر میری اپنی ساس سے بات چیت شروع ہوئی اور پھر اس حد تک گئے کہ ہم سے زنا ہوگیا اور کوئی اندازہ نہیں ہوا کہ اس کا کیا نتیجہ ہوگا،پھر 27.02.2024 کو میری رخصتی ہوئی اور اب تین مہینے بعد میری بیوی امید سے ہے،میرے مسئلے کا حل بتائیے ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ میرا نکاح اپنی بیوی کے ساتھ برقرار ہے یا ختم ہوچکا ہے؟ اور آگے ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
سائل کا اپنی ساس کے ساتھ ناجائز تعلقات اور زنا جیسے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنا شرعاً ناجائز اور حرام فعل ہے، اگر اسلامی قانون نافذ العمل ہوتا تو اس جرم کے ثبوت کے بعد سائل اور اس کی ساس پر شرعی حد بھی جاری ہوتی، لہٰذا سائل اور اس کی ساس پر لازم ہے کہ اپنے اس فعلِ حرام کے ارتکاب پر اللہ کے حضور بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کےلئے مکمل اجتناب کریں، جبکہ اس فعل کے ارتکاب کی وجہ سے سائل کی بیوی ہمیشہ کےلئے سائل پر حرام ہوچکی ہے، لہذا سائل کو چاہئے کہ الفاظ متارکہ (میں نے چھوڑ دیا وغیرہ)کہہ کر بیوی سے علیحدگی اختیار کرے تاکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو۔
کما فی الفقہ الإسلامی وأدلتہ: ولو زنی الزوج بأم زوجتہ أو ببنتھا، حرمت علیہ زوجتہ علٰی التأبید اھ (ج3،صـــ135)۔
وفی الدر المختار: وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة اھ (ج3،صـــ37،ط:سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: ذکر محمد رحمه الله تعالى في نكاح الأصل أن النكاح لا يرتفع بحرمة المصاهرة والرضاع بل يفسد حتى لو وطئها الزوج قبل التفريق لا يجب عليه الحد اشتبه عليه أم لم يشتبه، كذا في الذخيرة اھ (ج1،صـــ277،ط:ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير عودة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان اھ (ج1،صـــ536،ط:ماجدیۃ)۔