کیا عشر کی رقم سے جنازہ گاہ کی تعمیر کی جا سکتی ہے؟
واضح ہوکہ عشر کی رقم بھی کسی مستحقِ زکوٰۃ کو بلا کسی عوض باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالے کرنا لازم اور ضروری ہے اس کے بغیر شرعاً عشر ادا نہ ہو گا، لہذا بغیر کسی تملیک کے عشر کی رقم براہ راست جنازہ گاہ کی تعمیر میں لگانا شرعاً جائز نہیں اور اس طرح کرنے سے عشر ادا نہ ہو گا، تاہم اگر عشر کی رقم کسی مستحقِ زکوٰۃ کو باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالہ کی جائے اور پھر وہ شخص اپنی مرضی سے خود یا کسی اور کے ذریعہ وہ رقم جنازہ کی تعمیر مین خرچ کر دے تو ایسا کرنا شرعاً جائز اور درست ہوگا اور عشر دینے والوں کا عشر بھی ادا ہوجائے گا۔
کما فی الدر المختار: باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر، وأما خمس المعدن فمصرفه كالغنائم (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة. (ومسكين من لا شيء له) على المذهب ( ج2،ص339،ط:سعید)۔
وفی المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی: والحيلة لمن أراد ذلك أن يتصدق بمقدار زكوتہ على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة، ولذلك الفقير ثواب هذه القُرَب ( ج2،ص282،ط: دار الکتب العلمیہ)۔
عشر کی رقم چچاز زاد اور پھوپھی کو دینا - بیت الخلاء میں وضو کرتے وقت دعائیں پڑھنا
یونیکوڈ عشر و خراج 0