السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ہمارے علاقے میں دو قسم کی زمینیں ہیں، ایک بارانی کہلاتی ہے، جو بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہے، جب کہ دوسری زمین نہری کہلاتی ہے ، ان زمینوں کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ یہ نہر کے پانی سے سیراب ہوتی ہیں، لیکن نہر کے پانی کو زمین تک پہنچانے میں کافی مشقتیں جھیلنی پڑتی ہیں، اسی طرح کبھی نمبر رات کو آتا ہے، جس کی وجہ سے ساری رات نیند قربان کرنے کی مشقت کرنی پڑتی ہے، نیز پورا سال زمین پر کھاد دوائیوں وغیرہ کا بھاری خرچہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے، ایسے حالات کے تناظر میں ان نہری زمینوں میں عشر واجب ہوگا یا نصف عشر؟ براہ مہربانی تسلی بخش جواب دے کر ممنون فرمائیں، جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ ایسے اخراجات اور مشقت جو زمین کو کاشت کے قابل بنانے سے لے کر پیداوار کے حصول تک پیش آتی ہے، جیسے کھاد دواؤں وغیرہ کا خرچہ، ان سے پیداوار کے عشر یا نصف عشر لازم ہونے کا کوئی تعلق نہیں ، بلکہ پیداواری زمین پر عشر یا نصف عشر لازم ہونے کا معیار اس زمین کے پانی سے سیرابی کے مختلف ہونے سے ہے، چنانچہ اگر زمین کو سال کے اکثر حصہ میں ایسے پانی سے سیراب کیا جائے جس میں خرچہ نہ آتا ہو، یعنی قدرتی آبی وسائل مثلاً بارش، چشمہ، ندی وغیرہ کا پانی تو اس زمین میں عشر لازم ہوگا، البتہ اگر زمین کوایسے پانی سے سیراب کیا جائے جس میں خرچہ آتا ہو، جیسے ٹیوب ویل یا گورنمنٹ سے خریدے جانے والے پانی وغیرہ سے سیراب کیا جائے، تو ایسی زمین کی پیداوار پر نصف عشر لازم ہوگا، لہذا سائل کے علاقہ کی وہ زمینیں جو نہر کے پانی سے کسی مصنوعی آلات ٹیوب ویل مشین یا بل وغیرہ کے بغیر سیراب کی جاتی ہوں، ان کی پیداوار کاعشر دینا ہی لازم ہوگا۔
کمافی الدرالمختار: (و) تجب في (مسقي سماء) أي مطر (وسيح) كنهر (بلا شرط نصاب) راجع للكل (الی قولہ) (و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة الخ (2 س 326 باب العشر کتاب الزکاۃ ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: (قوله: لكثرة المؤنة) علة لوجوب نصف العشر فيما ذكر (قوله: وقواعدنا لا تأباه) كذا نقله الباقاني في شرح الملتقى عن شيخه البهنسي؛ لأن العلة في العدول عن العشر إلى نصفه في مستقى غرب ودالية هي زيادة الكلفة كما علمت وهي موجودة في شراء الماء ولعلهم لم يذكروا ذلك؛ لأن المعتمد عندنا أن شراء الشرب لا يصح وقيل إن تعارفوه صح وهل يقال عدم شرائه يوجب عدم اعتباره أم لا تأمل نعم لو كان محرزا بإناء فإنه يملك فلو اشترى ماء بالقرب أو في حوض ينبغي أن يقال: بنصف العشر؛ لأن كلفته ربما تزيد على السقي بغرب أو دالية الخ (ج2 ص 328 باب العشر ط سعید)۔
وفی الھندیۃ: ثم ماء العشر ماء البئر حفرت في أرض العشر، وماء العين التي تظهر في أرض العشر، وكذلك ماء السماء، وماء البحار العظام عشري كذا في المحيط.الخ (ج2 ص186 الباب سادس فی زکاۃ الزرع والثمار کتاب الزکاۃ کتاب الزکاۃ ط سعید)۔
عشر کی رقم چچاز زاد اور پھوپھی کو دینا - بیت الخلاء میں وضو کرتے وقت دعائیں پڑھنا
یونیکوڈ عشر و خراج 0