کیا فرماتے ہیں علماءِ دینِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر مسمٰی محمد طلحہ ولد محمد صادق، محمد طلحہ کے دوست مسمٰی رحمٰن ولد محمد اکرم اور محمد طلحہ کی والدہ مسماۃ ریحانہ زوجہ محمد صادق کے منسلکہ حلفیہ بیان کے مطابق محمد طلحہ کے دوست رحمٰن نے جنوری 2024ء کے پہلے ہفتے میں محمد طلحہ کے دوست کے موبائل سے محمد طلحہ کی بیوی کو تین طلاق کا میسج کر کے ڈیلیٹ کردیا اور محمد طلحہ کو اس کا بالکل بھی علم نہیں تھا اور نہ ہی اس نے زبانی یا تحریری کسی قسم کی طلاق اپنی بیوی کو دی ہے تو ایسی صورت میں اس میسج سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرما کر عند اللہ مأجور ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں تمام گواہوں کے حلفیہ بیان کے مطابق اگر مسمٰی طلحہ نے واقعۃً اپنی بیوی کو کوئی طلاق نہ دی ہو ، بلکہ مسمٰی طلحہ کے دوست مسمٰی رحمٰن نے اس کی اجازت اور اس کو بتائے بغیر بدلہ لینے کے لئے اپنی طرف سے مسمٰی طلحہ کے دوست کے موبائل سے اُس کی بیوی کو تین طلاق کا میسج کردیا ہو ، تو ایسا کرنے سے اس کی بیوی پر شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہٰذا دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح ساتھ رہ سکتے ہیں۔
کما فی البحرالرائق: ثم اعلم أن المراد بالصحة في قوله إنما يصح اللزوم فإن التعليق في غير الملك، والمضاف إليه صحيح موقوف على إجازة الزوج حتى لو قال أجنبي لزوجة إنسان إن دخلت الدار فأنت طالق توقف على الإجازة فإن أجازه لزم التعليق فتطلق بالدخول بعد الإجازة لا قبلها، وكذا الطلاق المنجز من الأجنبي موقوف على إجازة الزوج فإذا أجازه وقع مقتصرا على وقت الإجازة الخ (باب التعلیق فی الطلاق ج 4 ص 6 )۔