السلام علیکم!
مہنگائی کے اس دور میں قربانی عام آدمی کے لئے ایک مشکل عمل ہو گیا ہے، شنید ہے اس سال فی حصہ تقریباً 33,000 ہزار کا میرے شہر راولپنڈی میں ہوگا ،ان حالات میں عام آدمی کیا کرے؟ رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ قربانی ہر اس شخص پر واجب ہے جس کی ملکیت میں ایّامِ عید (دسویں، گیارہویں اور بارہویں تاریخ) میں قرضے وغیرہ منہا کرنے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر مالِ تجارت، نقدی یا رہائش اور ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود ہو یا ان سب کا مجموعہ بقدرِ نصاب ہو تو ایسا شخص صاحبِ نصاب کہلائے گا، لہٰذا اس پر قربانی لازم ہوگی۔
کما فی الدر المختار: وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) إلخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية اھ (ج6،صـــ312،ط:سعید)۔