میں نے پچھلے سال تین بکرے پلوائے تھے، اس سال جنوری کے مہینہ میں میرا ایک بکرا مرگیا، میں صاحبِ استطاعت ہوں، میرے اوپر اپنی اور میری بیوی کی قربانی ہے، کیا اب مجھے اس بکرے کی رقم کی قربانی کرنی پڑے گی یا نہیں؟ اگر کرنی پڑے گی تو کیا میں اس کی اماؤنٹ میں اس کی پلائی کے چارجز بھی شامل کروں گا؟ مثلاً بکرا تیس ہزار کا تھا، ہر مہینہ پانچ ہزار کا کھاتا تھا، تو کیا مجھے 30 یا 35 ہزار کی قربانی کرنی پڑے گی الگ؟ دو بکرے ابھی بھی زندہ ہیں الحمد للہ، جو اس سال قربان ہوں گے، ایک اہم بات! جب میں نے لیے تھے، تب میں نے نیت نہیں کی تھی اور ابھی بھی مجھے شک ہے کہ غلطی سے نیت نہ آگئی ہو یا میں نے کہیں یہ نہ بول دیا ہو کہ یہ میری قربانی کے لئے ہے، تو اب میں کیا کروں؟
سائل جب صاحبِ نصاب ہے تو اس پر اس مرے ہوئے بکرے کے بدلہ الگ سے تیسرا بکرا خریدنا لازم نہیں، بلکہ موجود دونوں بکرے اپنی اور اپنی اہلیہ کی طرف سے قربان کرسکتا ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: اشترى شاة ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لا يجب عليه سواء كان غنيا أو فقيرا؛ لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر الخ ( کتاب الاضحیۃ ج 5 ص 62 ط: سعید )۔