کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرا اپنے بھائی کے ساتھ گھر میں کچھ لڑائی جھگڑا ہوا، جس پر مجھے بہت غصہ آیا، اور میں نے اپنے اوپر پٹرول ڈال کر اپنے کو جلانے کی بھی کوشش کی، لیکن والدہ اور بھائی نے مجھے بچایا، اِسی حال میں میں اپنے سسرال گیا، اور وہاں پر موجود افراد میری بیوی ، سسر اور میری بیوی کی بھابھی کا کہنا یہ ہے کہ میں نے وہاں تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں، سسر کا بیان ہے کہ یہ آئے اور اپنی بیوی کو کہا کہ ”میں ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ یہ جملہ تین مرتبہ کہا اور بیوی کی بھابھی کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس نے تین مرتبہ یہی مذکورہ جملہ کہا، اور بیوی کا بیان ہے کہ چونکہ اس وقت بچہ رو رہا تھا تو میں نے یہی مذکور جملہ دو مرتبہ سنا، جبکہ شوہر کا بیان ہے کہ میں حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہے کہ میں نے وہاں کیا بولا ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں طلاقیں ہوئیں کہ نہیں؟ اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
نوٹ: شوہر کا کہنا ہے کہ میرے سسر، بیوی یا اُن کی بھابھی کا میرے ساتھ کوئی بدنیتی یا دشمنی نہیں ہے، اس کے علاوہ سسر، بیوی، بھابھی کا کہنا ہے کہ غصہ کے علاوہ اُس پر کوئی اور کیفیت نہیں تھی، بھابھی کا کہنا ہے کہ ہم سمجھیں کہ یہ بیوی کو لینے کےلئے آئے ہیں تو میں نے اسے کو کہا کہ جاؤ ان کو پانی پلاؤ، یہ گئی ان کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس دوران سسرآئے، تو اس نے یہی مذکورہ بالا تحریر دہرائی کہ میں ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اِس طور پر کہ حالیہ حادثہ کے وقت موجود سسر اور بھابھی سائل کی جانب سے اپنی بیوی کو واضح اور صریح الفاظ ”میں ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ کے ساتھ تین طلاقیں دینے کو بیان کر رہے ہیں، جبکہ سائل بھی اس کا انکار نہ کرتا ہو، اور میاں و بیوی دونوں کو سسر اور بھابھی پر کسی قسم کی بد دیانتی کا شبہ نہ ہو، تو ایسی صورت میں اگرچہ بیوی نے بچہ کے رونے کی وجہ سے تیسری بار الفاظِ طلاق نہ سنے ہوں(لیکن اُسے والد اور بھابھی کے بیان پر اعتماد ہو) تو بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی رد المحتار تحت: (قولہ والصحیح عدم الجواز) وفی الفتاوی السراجیۃ: إذا أخبرھا ثقۃ أن الزوج طلقھا وھو غائب وسعھا أن تعتد وتتزوج ولم یقیدہ بالدیانۃ اھ کذا فی شرح الوھبانیۃ، قلت: ھذا تأیید لقول الأئمۃ المذکورین: فإنہ إذا حل لھا التزوج بإخبار ثقۃ فیحل لھا التحلیل ھنا بالأولی إذا سمعت الطلاق أو شھد بہ عدلان عندھا، بل صرحوا بأن لھا التزوج إذا أتاھا کتاب منہ بطلاقھا ولو علی ید غیر ثقۃ إن غلب علی ظنھا أنہ حق إلخ (ج3،صـــ421،ط:سعید)۔