السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
حضرت سوال یہ ہے کہ میرا پیسہ لوگوں کے یہاں 30 سے 40 ہزار بقایا ہے جو مجھے مل نہیں رہا اور میرے پاس پیسہ نہیں ہے تو کیا میرے اوپر قربانی کرنا واجب ہے؟
واضح ہوکہ قربانی ہر اس عاقل بالغ مسلمان شخص پر لازم ہے جس کی ملکیت میں ایام ِعید(دسویں،گیارہویں،اور بارہویں ذی الحجہ) کو اپنے اوپر قرضے منہا کرنے کے بعد ساڑھےسات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر مالِ تجارت، نقدی اور حاجات اصلیہ سے زائد سامان ہو تو اس پر قربانی لازم ہے، چنانچہ سائل کی ملکیت میں اگر ایام عید میں صرف یہی رقم ہو، اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں مذکور بالااشیاء میں سے کوئی بھی چیز بقدرِ نصاب نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل پر قربانی لازم نہیں۔
کما فی الدر المختار:وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به)الخ
وفی رد المحتار تحت: (قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم الخ(کتاب الاضحیۃ،ج6،ص312،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: قيل: لعلي بن أحمد لو كان لرجل دين على مقر مفلس هل تحل له الزكاة؟ . (قال: لا) ، فقيل: وهل عليه الأضحية؟ . فقال: لا ما لم يصل إليه، كذا في التتارخانية،له دين حال أو مؤجل على مقر ملي وليس في يده ما يمكنه شراء الأضحية لا يلزمه أن يستقرض فيضحي، ولا يلزمه قيمتها إذا وصل إليه الدين، لكن يلزمه أن يسأل منه ثمن الأضحية إذا غلب على ظنه أنه يدفعه. له مال كثير غائب في يد شريكه أو مضاربه ومعه ما يشتري به الأضحية من الحجرين أو متاع البيت تلزمه الأضحية، كذا في القنية(کتاب الاضحیۃ،ج5،ص307،ط:سعید)۔