اگر کسی شخص نے قربانی کے لئے کوئی بھی چھوٹا یا بڑا جانور خریدا ہو، او ر وہ قربانی کے دن سے پہلے ہی مر جائے یا حلال ہوجائے، تو اس کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ اگر اس پر قربانی واجب ہو گئی ہو مگر اس کے پاس وسائل نہ ہوں تو وہ کیا کرے ؟
واضح ہوکہ قربانی کےواجب ہونے کے لئے صاحبِ نصاب ہونا شرط ہے، اس لئے اگر صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کے لئے جانور خریدا اور وہ جانور قربانی سے پہلے ہی مرگیا یا اسے مردار ہونے سے بچانے کے لئے ذبح کیا گیا، تو اس صورت میں اس شخص پر دوسری قربانی کرنا واجب ہے، اور اگر فی الفور دوسرا جانور خریدنے کی استطاعت نہ ہو، تو جانور کی خریداری کرنے کے لئے رقم ادھار لینے یا دوسرا جانور خریدنے کی بجائے کسی کے ساتھ حصہ میں شریک ہوکر قربانی کرنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم جب تک وہ صاحبِ نصاب ہوتب تک اس کے ذمہ قربانی بہر صورت واجب رہے گی، البتہ اگر قربانی کاجانور خریدنے والا شخص صاحبِ نصاب نہ ہو، اور وہ جانور قربانی سے قبل مر جائے، تو اس پر دوسرے جانور کو خرید کر قربانی کرنا واجب نہیں۔
کما فی الھندیۃ: وأما الذي يجب على الفقير دون الغني فالمشترى للأضحية إذا كان المشتري فقيرا، بأن اشترى فقير شاة ينوي أن يضحي بها، وإن كان غنيا لا تجب عليه بشراء شيء (الی قولہ) وأما الذي يجب على الغني دون الفقير فما يجب من غير نذر ولا شراء للأضحية بل شكرا لنعمة الحياة وإحياء لميراث الخليل حين أمره الله بذبح الكبش في هذه الأيام، كذا في البدائع الخ (ج5 صـ291-292 کتاب الاضحیۃ ط: سعید)۔