میں اپنے خاندان (فیملی)کا واحد کفیل ہو ں ، میری بیوی گھر پر ہو تی ہے اس کی کوئی ذرائع آمدن نہیں ، اس کے پاس سونا ہے ،میں جانتا ہو ں کہ زکاۃ اس پر فرض ہے صاحب نصاب ہو نے کی وجہ سے ، کیا آپ مجھے قربانی کے بارے میں بتاسکتے ہو کہ اس پر قربانی واجب ہے ؟جبکہ سونے کے علاہ اس کے پاس کوئی ذرائع آمدن نہیں ، رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ قربانی ہر اس شخص پر واجب ہے ، جس کی ملکیت میں ایام عید میں قرض منہاکرنے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر مال تجارت ،نقدی یارہائش اور ضروریاتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہو گی، لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کی بیوی کے پاس اگر سونے کے ساتھ کچھ نقدی بھی موجود ہو ،اور سونا اور نقدی ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت بقدر رقم بنتی ہو تو سائل کی بیوی کے ذمہ قربانی واجب ہو گی،ورنہ نہیں ۔
کمافی الدرالمختار: وشرائطهاالإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)(کتاب الأضحیۃ ج6 ص312 ط:سعید)۔
وفی ردالمحتار:تحت(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية(ج6ص312 ط:سعید)۔