اگر کوئی آدمی ایک جانور لیتا ہے۔ اس میں ایک یا دو حصہ قربانی کے نام کے رکھ لے، اور باقی اس جانور میں حصے عقیقہ کے نام سے رکھ کر، قربانی والے دن جانور کو ذبح کر سکتا ہے؟کیا اس کی قربانی اور عقیقہ دونوں ہو جائینگے ؟
جی ہاں !قربانی کے بڑے جانور میں قربانی کے حصوں کے ساتھ عقیقے کی نیت سے ایک یا ایک سے زائد حصے شامل کرنا شرعاًجائز ودرست ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔
کمافی ردالمحتار:تحت(قوله وإن كان شريك الستة نصرانيا إلخ) وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد اھ (ج6 ص326کتاب الاضحیۃ ط:سعید)۔