عورت کے پاس اگر سسرال کا زیور ہے اور اس کی زکوۃ شوہر دیتا ہے تو عورت کو قربانی کرنی چاہیئے یا شوہر کی قربانی ہی کافی ہے؟
واضح ہو کہ عورت اگر خود صاحبِ نصاب ہو تو ا سکی زکوۃ و قربانی اسی پر لازم ہے ، البتہ اگر شوہر بیوی کی اجازت سے اس کے مال کی زکوۃ یا قربانی ادا کرنا چاہے تو یہ بھی شرعاً جائز اور درست ہے۔
و فی الدر المختار : اشرائطھا الاسلام و الاقامۃ و الیسار الذی یتعلق بہ) وجوب ( صدقۃ الفطر) الخ
و فی الدر تحت ( وقولہ: والیسار) بان ملک مأتی درھم أو عرضاً یساویھا غیر مسکنہ و ثیاب اللبس أ متاع یحتاجہ الی ان یذبح الاضحیۃ الخ (کتاب الاضحیہ، ج 6، ص 312، ط: ایچ ایم سعید)-
و فی الھندیۃ: ( وأما شرائط الوجوب) منھا الیسار و ھو ما یتعلق بہ وجوب صدقۃ الفطر دون ما یتعلق بہ وجوب الزکاۃ الخ ( کتاب الاضحیۃ، الباب الاول، ج 5، ص 292، ط ماجدیہ) –
و فی التاتار خانیہ: و شرط وجوبھا الیسار عند أصحابنا رحمھم اللہ ، و الموسر فی ظاھر الروایہ من لہ مأتا درھم الخ ( کتاب الاضحیۃ، الفصل الاول، ج 17، ص 232، ط:مکتبہ رشیدیہ)-