ایک شادی شدہ لڑکی کے پاس چار تولہ سونا ہے اور باقی جہیز کا سامان ہے برتن وغیرہ، نقدی اور چاندی وغیرہ نہیں ہے۔اس صورت میں اس لڑکی پر زکوٰۃ اور قربانی ہوگی یا نہیں؟
سوال میں مذکور لڑکی کے پاس اگر واقعۃْ مذکور چار تولہ سونا کے علاوہ چاندی اور نقدی میں سے کچھ موجود نہ ہو تو اس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم نہیں اسی طرح اگر جہیز کے سامان میں ضرورت سے زائد کچھ موجود نہ ہو تو زکوۃ کی طرح اس پر قربانی بھی لازم نہ ہوگی ۔
في الدر المختار و حاشية ابن عابدين: وشرعا (ذبح حيوان مخصوص بنية القربة في وقت مخصوص. وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر اه (6/312)
وفي المحيط البرهاني في الفقه النعماني: ولا تجب هذه الصدقة إلا على حر مسلم غني، والغني أن يملك نصاباً أو ما قيمته نصاب فاضلاً عن مسكنه وأثاثه وثيابه على نحو ما يعتبر في حرمة الصدقة اه (2/680، الفصل الثالث عشر في صدقة الفطر)