کیا نکاح نامہ میں یہ شرط رکھی جاسکتی ہے کہ طلاق صرف گواہوں کی موجود گی میں دی جائے؟
واضح ہوکہ وقوعِ طلاق کے لئے گواہوں کا موجود ہونا شرعاً ضروری نہیں، بلکہ بغیر گواہوں کے بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، چنانچہ اگر شوہر بیوی کو طلاق دیدے اور گواہ موجود نہ ہوں، تو بھی طلاق واقع ہوجائیگی،البتہ اگر میاں بیوی کے درمیان نباہ ممکن نہ رہے، اور وہ علیحدگی اختیار کرنا چاہیں تو بہتر یہ ہے کہ گواہوں کی موجود گی میں طلاق دی جائے، تاکہ آئندہ کیلئے پیدا ہونے والے شکوک وشبہات اور تنازعات سے بچاجاسکے، لہذا نکاح نامہ میں یہ شرط رکھنا" کہ طلاق گواہوں کی موجود گی میں دی جائے" شرعاً جائز ودرست ہے، لیکن اگر شوہر شرط کی خلاف ورزی کرتے ہوئےگواہوں کی عدمِ موجودگی میں طلاق دیدیتا ہےتو ایسی صورت میں شرعاً اس شرط کی وجہ سے طلاق غیر مؤثر نہ ہوگی، بلکہ گواہ نہ ہونے کے باوجود بھی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی۔
کما فی تفسیر القرطبی: قوله تعالى: (وأشهدوا ذوي عدل منكم) فيه ست مسائل: الأولى- قوله تعالى: وأشهدوا أمر بالإشهاد «4» على الطلاق. وقيل: على الرجعة. والظاهر رجوعه إلى الرجعة لا إلى الطلاق. فإن راجع من غير إشهاد ففي صحة الرجعة قولان للفقهاء. وقيل: المعنى وأشهدوا عند الرجعة والفرقة جميعا. وهذا الإشهاد مندوب إليه عند أبي حنيفة، كقوله تعالى: وأشهدوا إذا تبايعتم «1» [البقرة: 282]. وعند الشافعي واجب في الرجعة، مندوب إليه في الفرقة. وفائدة الإشهاد ألا يقع بينهما التجاحد، وألا يتهم في إمساكها، ولئلا يموت أحدهما فيدعي الباقي ثبوت الزوجية «2» ليرث الخ (ج18 صـ158 ط: دار الكتب المصرية – القاهرة)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: فإن لم يكونا رجلين يعني إن لم يكن الشهيدان رجلين فرجل وامرأتان فلا يخلو قوله فإن لم يكونا رجلين من أن يريد به فإن لم يوجد رجلان فرجل وامرأتان الخ (ج2 صـ231 دار إحياء التراث العربي – بيروت)۔