السلام علیکم! میں کراچی کا رہائشی ہوں، میری شادی 7 سال قبل ہوئی، میری بیوی جب سے میرے گھر آئی ہے اس نے میرے گھر کا کوئی کام نہیں کیا، کہتی ہے کہ اپنا کام خود کرو اپنے لئے نوکر کا بندوبست کرو ، گھر کے معززین نے بہت سمجھایا ، مگر اس کی باتیں اور حرکتوں کی وجہ سے میں پریشان ہوگیا ہوں، لوگوں کے سامنےکہتی ہے میرا شوہر نامرد ہے، اب میں عزت دار لوگوں میں اس عورت کو کیا جواب دوں، یہ اس عورت کی دوسری شادی ہےاور اس کا ایک بیٹا بھی ہے، مجھ سے اس عورت کی کوئی اولاد نہیں، میاں بیوی والا کوئی تعلق نہیں ہے،مجھے قریب نہیں آنے دیتی اور سارا دن رات موبائل فون پر دوسرے مردوں سے میرے سامنے بات کرتی ہے، میں اس عورت سے بہت تنگ آچکا ہوں، براہ مہربانی شرعی حیثیت سے میری رہنمائی فرمائیں کہ میں اس عورت کو اپنے پاس رکھ سکتا ہوں یا فارغ کردوں۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل کی بیوی حقوق زوجیت ادا نہیں کررہی ہو وغیرہ، تو بیوی کا مذکور طرز عمل انتہائی قبیح اور ناجائز ہے ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہی ہے ، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز عمل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور شوہر سے دست بستہ معافی مانگتے ہوئے آئندہ کے لئے ان امور سے مکمل اجتناب کرے ، نیز شوہر کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرتے ہوئے آخرت کی پکڑ سے سبکدوشی حاصل کرے ، تاہم از خود اور بڑوں کے ذریعے سمجھانے کے باوجود بھی اگر بیوی مذکور طرز عمل سے باز نہ آتی ہو ، اور اس کے اس رویہ کی وجہ سائل کے لئے اللہ کی حدود کی پاسداری کرتے ہوئے اس کے ساتھ نباہ ممکن نہ ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے طلاق یا خلع کے ذریعے اپنی بیوی کو اپنی زوجیت سے علیحدہ کرنے کی بھی شرعاً گنجائش ہوگی ، اور اس کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی نہ ہو گا ۔
كما في رد المحتار: تحت ( قوله للشقاق ) أي لوجود الشقاق و هو الاختلاف و التخاصم و في القهستاني عن شرح الطحاوي السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما ، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلج انتهى (باب الخلع ، ج ۳ ص 441، ط : سعيد)-
و فيه أيضا : تحت ( قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ) و لا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا انتهى (فصل في البيع ، ج 6، ص 427، ط : سعید)-