ایک آدمی اپنا آبائی وطن چھوڑ کر کسی دوسری جگہ اقامت اختیار کرے، جب وہ ابائی وطن چلا جائے تو وہ قصر نما ز پڑھے یا پوری؟
اگر کوئی شخص اپنے آبائی علاقے سےاپنا اہل وعیال وغیرہ دوسرے علاقےمنتقل کرکے وہاں ساز وسامان کے ساتھ مستقل رہائش اختیار کرلے،تو وہ شخص جب بھی اس آبائی علاقہ کی طرف سفر کرےگاتووہاں پندرہ دن سے کم قیام کی صورت میں مسافر شمار ہوگا، اور چاررکعات والی فرض نمازمیں قصرکریگا ،البتہ اگرآبائی علاقے کو مستقل چھوڑنے کاعزم نہ ہو ،بلکہ دوسرے علاقہ میں محض ملازمت ہونے کی وجہ سے عارضی رہائش کا انتظام کیا ہو یا دوسری جگہ مستقل قیام کے ساتھ ساتھ آبائی علاقے کو بھی مستقل طور پر نہ چھوڑا ہو تو ایسی صورت میں آبائی علاقہ بدستور اس کا وطن اصلی رہےگا،لہذا وہ جب بھی آبائی علاقے میں جائے گا ، مقیم شمار ہوگا،اور اپنی نمازوں میں اتمام کریگا ۔
کما فی الدر المختار: (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر)الخ(ج2 ص132 ط:دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية.الخ(ج2 ص132 مطلب:الوطن الاصلی،ط:دار الفکر)۔
وفیہ ایضا:تحت (قوله أو تأهله) أي تزوجه. قال في شرح المنية: ولو تزوج المسافر ببلد ولم ينو الإقامة به فقيل لا يصير مقيما، وقيل يصير مقيما؛ وهو الأوجه ولو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما الخ(ج1 ص132 ط:دار الفکر)۔
وفی الھندیۃ: ويبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلي إذا انتقل عن الأول بأهله وأما إذا لم ينتقل بأهله ولكنه استحدث أهلا ببلدة أخرى فلا يبطل وطنه الأول ويتم فيهما الخ(ج1 ص142 باب:صلاۃ المسافر، ط:دار الفکر)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4