میرا نام روحی بانو ولد محمد شریف ہے میں حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ میں جو کچھ کہہ رہی ہوں سچ کہہ رہی ہوں، اللہ اور اس کے رسول کو حاضر ناظر جان کر، اگر میں جھوٹ بولوں تو اس کا عذاب مجھ پر اور میری آل و اولاد پر ہو ، میرے شوہر شاہد نے مجھے آج سے چھ سال پہلے دو طلاقیں دی تھیں اور اب 14 اگست کے دن میرے ساڑھے نو سال کی بیٹی ریبا کے سامنے لڑائی میں ایک اور طلاق دے دی ہے پہلے طلاق کے الفاظ یہ تھے "جا طلاق دیا، طلاق دیا" پھر 14 اگست کو یہ لفظ بولا کہ "جاطلاق ہو گیا"-
میں شوہر مسمی شاہد حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا، میں نے آٹھ سے دس سال قبل صرف ایک طلاق دی تھی، جس کے بعد ہم میاں بیوی کی طرح رہ رہے تھے، اب 14 اگست کو گیس سلینڈر بھروانے پر لڑائی ہوئی، جس میں بیوی بہت تلخ کلامی اور فحش گوئی کر رہی تھی، جس پر میں نے کہا کہ "اگر خاموش نہ ہوئی تو طلاق دے دوں گا" پھر بیوی بولی دے ابھی دے، لیکن میں نے اس کے بھائی کو فون کیا اور کہا کہ ا کر اس کو لے جاؤ یہ نفسیاتی ہو گئی ہے، اس کے بعد بیوی نے اپنے رشتہ داروں کو فون کیا کہ مجھے طلاق دے دی ہے، جبکہ موقع پر موجود بیٹا محمد جنید جس کی عمر تقریبا ً16 سال ہے جو موقع پر موجود تھا اور لڑائی ختم کروا رہا تھا اس کا کہنا ہے کہ والد نے طلاق دے دوں گا کا جملہ کہا تھا۔
(نوٹ) مذکور واقعہ ایک ہی مجلس کا ہے، اس کے بعد میاں بیوی حسب سابق رہتے رہے۔
صورتِ مسئولہ میں میاں بیوی کا ایک طلاق پر تو اتفاق ہے، جبکہ چھ سال پہلے کی دوسری اور حالیہ 14 اگست کی تیسری طلاق کے متعلق دونوں میاں بیوی کا بیان مختلف ہے، چنانچہ بیوی کل تین طلاقوں کی دعویدار ہے، جبکہ خاوند فقط ایک ہی طلاق دینے کو تسلیم کرتا ہےاور بیوی کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے شرعی شہادت موجود نہیں اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبر و آخرت کی جواب دہی کے لئے تیار ہے ، جب ایسی صورت در پیش ہو جائے کہ بیوی طلاق کے الفاظ تین بار سننے کی دعویدار ہو ، مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہر تین طلاقیں دینے کا اقراری نہ ہو تو ایسی صورت میں قسم کے ساتھ اگر چہ خاوند کا قول معتبر ہے، تاہم "المرأۃ کا لقاضی " کے اصول کو مدِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ (تین طلاق والی) سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے اور بہرحال خاوند سے الگ زندگی گزارنا شروع کرے، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی (جج) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی شرعی گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کر دے، تو ایسی صورت میں بیوی اگر چہ گنہگار نہ ہو گی، مگر پھر بھی اسے چاہئیے کہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
كما في البحر الرائق : والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه ( إلى قوله) أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه الخ ( باب الطلاق الصريح الخ، ج ۳، ۲۵۷، ط: ماجدية )-
و في الفتاوى الهندية : والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندنا الخ ( الباب الثاني في إيقاع الطلاق ، ج 1، ص 354، ط: ماجدية )
و في رد المحتار : تحت (قوله كا لقضاء باليمين الكاذبة ) قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام منه ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا (إلى قوله ) و في الخلاصة : ولا يحل وطؤها إجماعاً بحر الخ (مطلب في القضاء بشهادة الزور، ج ۵، ص 4۰۵ : سعيد)-
و في فتاوى قاضي خان : وهم أصناف ، صنف لا يكون كلامهم شهادة لعدم الأهلية وأهلية الشهادة إنما تكون بالعقل الكامل والضبط والولاية والقدرة على التمييز بين المدعي والمدعى عليه فلا تقبل شهادة الصبيان والمجانين ( إلى قوله) فلا ينعقد النكاح بحضرتهم وكذلك شهادة النساء وحدهن الخ ( كتاب الشهادة ، باب فيمن لا تجوز شهادتهم ، ج ۵، ص 4۲۱ ، ط : رشيدية) -