کیا فرماتے ہیں علماءِ دین شرح ِمتین شریعت کی رو سے کہ ہمشیرہ بنام مسماۃ ۔۔۔۔مرحوم قوم سیہٹر عرف گودرا کا عقدِ نکاح مورخہ 18/12/2022 کو ۔۔۔۔ ساآنہ کروڑ لال حسین ضلع لیہ سے روبرو گواہان شرعی ہوا اور رخصتی مورخہ 17/2/2023 2023 کو ہوئی، اسی دوران میرے والد صاحب فوت ہو گئے، اس کے بعد ۔۔۔ نے کئی مرتبہ ہماری بہن سے لڑائی جھگڑے کیے اور گھر سے نکال کر ہمارے گھر بھیج دیا، پھر بڑوں کی وجہ سے راضی نامے ہوتے رہے، ابھی مورخہ 21/8/2024 کو ۔۔۔۔۔۔نے میری بہن ۔۔۔۔ بی بی کو تین مرتبہ طلاق دے دی ہے اور مجھے فون کر کے کہا کہ میں نے تمہاری بہن یعنی ہمشیرہ کو طلاق دے دی ہے ، آکر لے جاؤ، میں نے اپنی بہن سے زبانی بھی معلوم کیا تو اس نے بھی یہی کہا کہ ۔۔۔نے تین مرتبہ طلاق دے دی ہے ، جس پر میں نے ۔۔۔کو کہا کہ تم نے ایک مرتبہ طلاق دی ہے یا تین مرتبہ طلاق دی ہے؟ تو ۔۔۔ نے کہا کہ میں غصہ میں تھا، میں نے تین مرتبہ طلاق دی ہے، میں نے اپنے بڑے بھائی عابد حسین کومتذکرہ بالا حقیقت سے آگاہ کیا اور کہا کہ بہن کو اپنے گھر لے جاؤ، جس پر بھائی بہن کو گھر لے کر آگیا اور بہن ابھی تک ہمارے گھر میں ہے، ابھی ۔۔۔۔کہتا ہے کہ میں نے غصہ میں آ کر طلاق دی ہے، ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔
جناب عالی ! مجھے شریعت کی روشنی میں بتلایا جائے کہ میری بہن مسماۃ ۔۔۔۔۔ پر طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟
واضح ہوکہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، چنانچہ صورتِ مسؤلہ میں اگر واقعۃً سائل کی ہمشیرہ کو اس کے شوہر نے غصہ کی حالت میں تین مرتبہ صریح الفاظ میں طلاق دے دی ہو اور شوہر نے تین طلاقوں کا اقرار بھی کرلیا ہو تو اس سے مذکور شخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کےبعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی رد المحتار: ويقع طلاق من غضب الخ (مطلب فی طلاق المدھوش، ج 3، ص 244، ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً: أن من وصل في الغضب إلى حالة لا يدري فيها ما يقول يقع طلاقه الخ (مطلب فيما لو حلف وأنشأ له آخر، ج 3، ص 369، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ : وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیہ)۔