میں نے قربانی کے چھ حصے اپنے اور گھر والوں کے لیے متعین کیے ہیں جبکہ ساتواں حصہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رکھا ،اب ساتویں سے آپ ﷺکا حصہ نکال کر اس کی جگہ کسی دوسرے شخص کے لیے آ پ ﷺکا حصہ متعین کرسکتا ہوں یا نہیں ؟یعنی تعیین کے بعد آ پ علیہ السلام کا حصہ خارج کر سکتا ہوں ؟
واضح ہو کہ کسی بھی نفلی عبادت کی نیت کرنے کے بعد اگر وہ عبادت شروع نہ کی ہو تو فقط نیت کرنے سے وہ عبادت لازم نہیں ہوتی ، اور آپ ﷺ کی طرف سے کی جانے والی قربانی بھی نفلی ہوتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ ﷺ کی طرف سے کی جانے والی قربانی شرعاً نفلی قربانی کہلائے گی ،جو کہ بلا شبہ جائز اور باعث ِ اجر و ثواب ہے اور آپﷺ کے ساتھ محبت و عقیدت کا مظہر ہے ،اور سائل اگر صاحب نصاب تھا تو اس کو اپنے اس عزم پر کار بند رہنا ہی افضل تھا ،تاہم اگر کسی عذر کی وجہ سے سائل اس جانور کے ساتویں حصہ کو آپﷺ کی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے کسی دوسرے شخص کو یہ حصہ دے دے تو اس کی بھی اجازت ہے ،اور اس کی وجہ سے اس شخص یا دیگر شرکاء کی قربانی صحیح اور درست شمار ہوگی، لیکن سائل اگر صاحب ِ نصاب نہیں تھا تو اس کا مذکور حصہ کو کسی دوسرے کو دینا جائز نہیں ،اگر دے دیا ہے تو اس کی قیمت کے بقدر رقم صدقہ کرنا سائل پر لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (ولو) (تركت التضحية ومضت أيامها) (تصدق بها حية ناذر) فاعل تصدق (لمعينة) ولو فقيرًا ولو ذبحها تصدق بلحمها ولو نقصها تصدق بقيمة النقصان أيضًا، ولايأكل الناذر منها فإن أكل تصدق بقيمة ما أكل (وفقير) عطف عليه (شراها لها) لوجوبها عليه بذلك حتى يمتنع عليه بيعها (و) تصدق (بقيمتها غني شراها أو لا) لتعلقها بذمته بشرائها أولا فالمراد بالقيمة قيمة شاة تجزي فيها الخ ۔
و في رد المحتار: (قوله: لوجوبها عليه بذلك) أي بالشراء وهذا ظاهر الرواية لأن شراءه لها يجري مجرى الإيجاب وهو النذر بالتضحية عرفًا كما في البدائع ووقع في التتارخانية التعبير بقوله شراها لها أيام النحر وظاهره أنه لو شراها لها قبلها لاتجب ولم أره صريحًا، فليراجع، (قوله: شراها لها) فلو كانت في ملكه فنوى أن يضحي بها أو اشتراها ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك لايجب لأن النية لم تقارن الشراء فلاتعتبر بدائع، (قوله: وتصدق بقيمتها غني شراها أو لا) كذا في الهداية وغيرها كالدرر. وتعقبه الشيخ شاهين بأن وجوب التصدق بالقيمة مقيد بما إذا لم يشتر أما إذا اشترى فهو مخير بين التصدق بالقيمة أو التصدق بها حية كما في الزيلعي أبو السعود وأقول ذكر في البدائع أن الصحيح أن الشاة المشتراة للأضحية إذا لم يضح بها حتى مضى الوقت يتصدق الموسر بعينها حية كالفقير بلا خلاف بين أصحابنا، فإن محمدًا قال وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف وقولنا وتمامه فيه، وهو الموافق لما قدمناه آنفًا عن غاية البيان، وعلى كل فالظاهر أنه لا يحل له الأكل منها إذا ذبحها كما لايجوز له حبس شيء من قيمتها، تأمل الخ ( ج:6،ص:320،ط: سعید)۔
و فیہ أیضا: قال في البدائع: لأن الموت لا يمنع التقرب عن الميت، بدليل أنه يجوز أن يتصدق عنه ويحج عنه، وقد صح «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين: أحدهما عن نفسه، والآخر عمن لم يذبح من أمته»، وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح الخ (ج:6،ص:326،ط: سعید)۔
و فی بدائع الصنائع: ولو ارادوا القربۃ الاضحیہ او غیرھا من القرب اجزاھم،سواء کانت القربۃ واجبۃ او تطوعا،او وجبت علی البعض دون البعض الخ (کتاب التضحیہ،جلد6،ص305-306،دارالکتب العلمیہ بیروت)۔
و فیہ أیضا: و مجرد النیۃ لا یلزم شیئا الخ ( فصل و أما صلوۃ التطوع ج:1،ص: 291،ط: سعید)۔
و فی الفقہ الاسلامی: و النوافل جمع نافلۃ ( إلی قولہ) و شرعا عبارۃ عن فعل مشروع لیس بفرض و لا واجب و لا مسنون الخ ( الفصل الثامن ج:2،ص: 47،ط: رشیدیۃ)۔