السلام علیکم ! مفتی صاحب! میرا سوال طلاق کے بارے میں ہے ، ـ میں نے آپ سے پہلے بھی فتوی لیا ہے، لیکن معاملات غلط رخ لے چکے ہیں ، میرے شوہر نے طلاق بھیجی تىن نوٹس میں ، لیکن طلاق یونین میں آئی ہے اور جو طلاق نامے پر تاریخ درج ہے میں اللہ کو حاضر جان کر کہتی ہوں کہ اس تاریخ پر ماہواری آتی ہے۔ مجھے فتوی چاہیئے ، میں گھر آباد کرنا چاہتی ہوں، کوئی درمیانی راہ کوئی فتوی کوئی اسلامی شریعت کی رو سے میری رہنمائی کردیں تاکہ رجوع ہو جائے۔
واضح ہو کہ ماہواری کے ایام میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا سائل کے شوہر نے واضح اور صریح الفاظ جیسے "میں طلاق دیتا ہوں" پر مشتمل تین نوٹس از خود بنوائے ہوں، اور پھر ان پر دستخط کر کے وہ یونین کونسل کو بھی ارسال کر دىے ہوں، تو اگر چہ ان پر درج تاریخوں پر سائلہ کو ماہواری آتی ہو ، تب بھی ان سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا جب کہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔