السلام علیکم!
مفتی صاحب ایک مسئلہ درپیش ہے۔میں جس عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں وہ طلاق یافتہ ہے۔ لیکن اس کے پاس طلاق نامہ نہیں ہے۔ اسکے سابقہ شوہر پیشہ کے اعتبار سے ایک وکیل تھا۔ اس نے یونین کونسل سے اپنے نکاح اور طلاق کا ریکارڈ ختم کروا دیا ہے۔ اب وہ عورت کہتی ہے کہ ہمارا معاملہ مكمل طور پر کلیئر ہے۔ راہنمائی فرمائیں کہ میں نکاح کر سکتا ہوں؟ شرعی طور پر درست ہوگا، اور قانونی طور پر بھی؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکور عورت کو اس کا سابق شوہر تین طلاقیں دے کر اس سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر چکا ہو اور وہ عورت اس کی عدت بھی گزار چکی ہو تو ایسی صورت میں مذکورہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔ لہذا سائل مذکورہ عورت سے اگر نکاح کرنا چاہے تو اس کا نکاح صحیح اور درست منعقد ہو جائے گا۔ اس لئے بلا وجہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔
قال الله تعالى: الطلاق مرتٰن فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان)- (البقرة: 229)-
و فی الفتاوى الھندیۃ: و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ إلخ۔ (ج: 1، ص: 473، ط: سعید)-
و فی بدائع الصنائع: و اما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک و زوال المحلیۃ ایضا حتی لایجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر إلخ۔ (ج: 3، ص: 187، ط: سعید)-
و فى الدر المختار: و لو كتب على وجه الرسالة و الخطاب كأن يكتب يا فلانة: اذا اتاك كتابى هذا فانت طالق طلقت بوصول الكتاب إلخ۔ (ج: 3، ص: 246، ط: سعید)-
و فى الدر المختار: و شرعاً (رفع قيد النكاح فى الحال) بالبائن (او المآل) بالرجعى (بلفظ مخصوص) إلخ- (ج: 3، ص: 226، ط: سعید)-