ایک دن میں کھانا بنا رہی تھی، اچانک میرے سسر کام سے آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر میرا گال کاٹا، اس حالت میں مجھے کوئی جنسی خواہش نہیں تھی، سسر نے فیملی کورٹ میں اعتراف کیا کہ میرا آلہ تناسل منتشرنہیں ہوا، اور میں نے اس وقت دیکھا، اس کا آلہ تناسل کھڑا نہیں تھا، اب میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا مذکورہ واقعہ سے ہمارا ازدواجی رشتہ ٹوٹ جائے گا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کا بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو،اس طور پر کہ سائلہ کے سسر نے سائلہ کا ہاتھ پکڑ کر اس کے گال کو کاٹاہو،توفقہاءِ کرام کی تصریحات کے مطابق گال پر بوسہ دینے کی صورت میں مطلقاً حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرچہ سسر صرف اس بات کا اعتراف کرتا ہےکہ اُس کے آلۂ تناسل میں انتشار نہیں تھا، لیکن چونکہ اس نے شہوت کے عدمِ وجود کا ذکرہی نہیں کیا ،جبکہ بہو کے گال پر بوسہ دینا اور پھر اس کےگال کاٹ کر دبانا شہوت ہونے پر دلالت کرتا ہے، چناچہ اگر سائلہ کا شوہر بھی اپنے والد کے اس فعل کی تصدیق کرتا ہو،اور اس مو قع پر شہوت سے انکاری نہ ہو تو اس کی وجہ سے سائلہ اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی ، اور اس صورت میں شوہر پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی بیوی کو الفاظِ متارکت جیسے " میں نے تجھے چھوڑ دیا " وغیرہ کہہ دے تاکہ وہ عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو ۔
کما فی الھندیۃ : رجل قبل امرأة أبيه بشهوة أو قبل الأب امرأة ابنه بشهوة و هي مكرهة و أنكر الزوج أن يكون بشهوة فالقول قول الزوج ، و إن صدقه الزوج وقعت الفرقة و يجب المهر على الزوج و يرجع بذلك على الذي فعل إن تعمد الفاعل الفساد و إن لم يتعمد لا يرجع الخ ۔ ( القسم الثانی المحرمات بالصھریۃ و مایقبل بذٰلک، ج،1 ص ، 276 ، ط۔ رشیدیہ)-
وفیھا ایضاً: وکان الشیخ الامام الاجل ظہیر الدین المرغینانی یفتی بالحرمۃ فی القبلۃ فی الفم والخد والرأس وإن کان علی مقنعۃ وکان یقول لا یصدق فی أنہ لم یکن بشہوہ الخ ( القسم الثانی المحرمات بالصھریۃ، ج1، ص304، ط: دارالکتب العلمیۃ)۔
و فی رد المحتار تحت : (قوله : قبل أم امرأته إلخ ) قال في الذخيرة : و إذا قبلها أو لمسها أو نظر إلى فرجها ثم قال لم يكن عن شهوة ذكر الصدر الشهيد أنه في القبلة يفتى بالحرمة ما لم يتبين أنه بلا شهوة و في المس و النظر لا إلا إن تبين أنه بشهوة ؛ لأن الأصل في التقبيل الشهوة بخلاف المس و النظر ، الخ ۔( کتاب النکاح ، فصل فی المحرمات ، ج ، 3 ص ، 35 ، ط۔ ایم سعید)۔