۱ ۔میرا سوال یہ ہے کہ "او ایس ایچ" میں ایک تو مساجد بہت کم ہیں ، لیکن جو امام ہیں ، ان کی داڑھی نہیں ہوتی ، کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟یا گھر پر ہی پڑھ لی جائے؟
۲ ۔ یہ کہ فجر کی سنتوں اور فرض کے درمیان کسی قضاء نماز کی ادائیگی ہو سکتی ہےیا نہیں؟ براہِ کرم جواب مرحمت فرمائیں۔
۱ ۔صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا صحیح نہیں ، تاہم اگر کوئی دوسرا متبعِ سنت اور متقی پرہیزگار امام میسر نہ ہو تو بامرِ مجبوری تنہا نماز پڑھنے کی بجائےشخصِ مذکور کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی گنجائش ہے اور اس طرح کرنے سے جماعت کا ثواب بھی ملے گا۔
۲ ۔ جی ہاں! اس وقت بھی قضاء نماز کی ادائیگی شرعاً جائز ہے۔
فی الدر المختار : في النهر عن المحيط : صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة اھ(1/ 562)۔
و فی حاشية ابن عابدين :(قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد ، لكن لاينال كما ينال خلف تقي ورع لحديث «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي» الخ(1/ 562)۔
و فی الدرالمختار : و جميع أوقات العمر وقت للقضاء إلا الثلاثة المنهية الخ(2/ 66)۔
و فی حاشية ابن عابدين : تحت(قوله إلا الثلاثة المنهية) و هي الطلوع و الاستواء و الغروب اھ(2/ 66)۔
و فی الهدایة مع الفتح : و یکره التنفل بعد الفجر حتی تطلع الشمس و بعد العصر حتی تغرب لما روی أنّه علیه الصلاة و السلام نهیٰ عن ذلك ولا بأس بأن یصلی فی هٰذین الوقتین الفوائت و یسجد للتلاوة و یصلی علی الجنازة اھ (۱/ ۲۰۷)۔